Wednesday, November 25, 2020

ماہی گیر

تحریر--------- سعادت حسن منٹو
(فرانسیفک شاعر وکٹر ہوٹگو کی ایک نظم کے تاثرات)
سمندر رو رہا تھا۔ مقدر لہریں پتھریلے ساحل کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ و زاری کر رہی تھیں۔ دور۔۔۔۔۔۔پانی کی رقصاں سطح پر چند کشتا ں اپنے دھندلے اور کمزور بادبانوں کے سہارے بے پناہ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کانپ رہی تھںر۔ آسمان کی نی س قبا مںی چاند کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ ستاروں کا کھت اپنے پورے جوبن مںک لہلہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔فضا سمندر کے نمکنو پانی کی تز بو مںی بسی ہوئی تھی۔ ساحل سے کچھ فاصلے پر چند شکستہ جھونپڑیاں خاموش زبان مںن ایک دوسرے سے اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کر رہی تھں۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ماہی گر وں کے سر چھپانے کی جگہ تھی۔ ایک جھونپڑی کا دروازہ کھلا تھا جس مں چاند کی آوارہ شعاعںپ زمنم پر رینگ رینگ کر اس کی کاجل اییے فضا کو نمہ روشن کر رہی تھں۔۔ اس اندھی روشنی مںع دیوار پر ماہی گرپ کا جال نظر آرہا تھا اور ایک چوبی تختے پر چند تھالابں جھلملا رہی تھںر۔ جھونپڑی کے کونے مںے ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی، تاریک چادروں مں ملبوس اندھرکے مںو سر نکالے ہوئے تھی۔ اس کے پہلو مں پھٹے ہوئے ٹاٹ پر پانچ بچے محوِ خواب تھے۔۔۔۔۔۔۔ننھی روحوں کا ایک گھونسلا جو خوابوں سے تھر تھرا رہا تھا۔ پاس ہی انکی ماں نہ معلوم کن خاشلات مںا مستغرق گھٹنوں کے بل بیھ پ گنگنا رہی تھی۔ یکایک وہ لہروں کا شور سن کر چونکی۔۔۔۔بوڑھا سمندر کسی آنے والے خطرے سے آگاہ، سایہ چٹانوں، تند ہواں اور نصف شب کی تارییم کو مخاطب کرکے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور بچوں کے پاس جا کر ہر ایک کی پشامنی پر اپنے سرد لبوں سے بوسہ دیا اور وہںد ٹاٹ کے ایک کونے مںں بٹھی کر دعا مانگنے لگی۔ لہروں کے شور مںپ یہ الفاظ بخوبی سنائی دے رہے تھے۔
"
اے خدا۔۔۔۔۔اے بکسوکں اور غریبوں کے خدا، ان بچوں کا واحد سہارا، رات کا کفن اوڑھے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔موت کے عمق گڑھے پر پاں لٹکائے ہے۔۔۔۔۔۔صرف انکی خاطر وہ ہر روز اس دیو کے ساتھ کشتی لڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تو اسکی جان حفاظت مںھ رکھوا۔۔۔۔۔۔۔آہ، اگر یہ صرف نوجوان ہوتے، اگر یہ صرف اپنے والد کی مدد کر سکتے۔"
یہ کہہ کر خدا معلوم اسے کاے خایل آیا کہ وہ سر سے پر" تک کانپ گئی۔ اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھرتھراتی ہوئی آواز مں۔ کہنے لگی۔ "بڑے ہو کر انکا بھی یی شغل ہوگا، پھر مجھے چھ جانوں کا خدشہ لاحق رہے گا۔۔۔۔۔۔۔آہ کچھ سمجھ مںہ نہںو آتا۔ غربت، غربت۔"
یہ کہتے ہوئے وہ اپنی غربت اور تنگ دامانی کے خا لات مںک غرق ہوگئی۔ دفعتاً وہ اس اندھرتے خواب سے بدرار ہوئی اور اس کے دماغ مںی ہوٹلوں کی دیو قامت عمارتںل اور امرا کے راحت کدوں کی تصویریں کھچ گئںا۔ ان عمارتوں کی دلفریب راحتوں اور امرا کی تعشر پرستواں کا خایل آتے ہی اس کے دل پر ایک دھند سی چھا گئی۔ کلجےے پر کسی غرح مرئی ہاتھ کی گرفت محسوس کرکے وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے سے تارییب مںی آوارہ نظروں سے دیکھنا شروع کای۔
اسکی یہ حرکت خاہلات کی آمد کو نہ روک سکی۔ وہ سخت حر ان تھی کہ لوگ امرا اور غریب کواں ہوتے ہں جبکہ ہر انسان ایک ہی طرح ماں کے پٹ سے پد ا ہوتا ہے۔ اس سوال کے حل کےیدو اس نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ ایک اور چزی جو اسے پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ جب اسکا خاوند اپنی جان پر کھل کر سمندر کی گود سے مچھلایں چھنا کر لاتا ہے تو کاآ وجہ ہے کہ مارکٹ کا مالک بغر محنت کئے ہر روز سنکڑاوں روپے پداا کر لتاا ہے۔ اسے یہ بات خاص طور پر عجبی سی معلوم ہوئی کہ محنت تو کریں ماہی گرے اور نفع ہو مارکٹک کے مالک کو۔ رات بھر اسکا خاوند اپنا خون پسنہئ ایک کردے اور صبح کے وقت آدھی کمائی اسکی بڑی توند مں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کچھ جواب نہ پا کر وہ ہنس پڑی اور بلند آواز مں کہنے لگی۔
"
مجھ کم عقل کو بھلا کاک معلوم۔ یہ سب کچھ خدا جانتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس کے بعد وہ کچھ کہنے والی تھی کہ کانپ اٹھی۔ "اے خدا مںس گنہگار ہوں، تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔۔۔۔۔ایسا خامل کرنا کفر ہے۔"
یہ کہتی ہوئی وہ خاموشی سے اپنے بچوں کے پاس آکر بٹھا گئی اور انکے معصوم چہروں کی طرف دیکھ کر بے اختاسر رونا شروع کردیا۔
باہر آسمان پر کالے بادل مہب ڈائنوں کی صورت مںں اپنے ساےہ بال پریشان کئے چکر کاٹ رہے تھے۔ کبھی کیھت اگر کوئی بادل کا ٹکڑا چاند کے درخشاں رخسار پر اپنی سائہی مل دیتا تو فضا پر قبر کی تارییم چھا جاتی۔ سمندر کی سں ب لہریں گہرے رنگ کی چادر اوڑھ لں ب اور کشتورں کے مستولوں پر ٹمٹماتی ہوئی روشناعں اس اچانک تبدیی کو دیکھ کر آنکھںا جھپکنا شروع کر دیںکا۔
ماہی گرل کی بویی نے اپنے ملےد آنچل سے آنسو خشک کئے اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دیکھنے لگی کہ آیا دن طلوع ہوا ہے یا نہںں۔ کوپنکہ اس کا خاوند طلوع کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گھر واپس آ جایا کرتا تھا مگر صبح کا ایک سانس بھی بدوار نہ ہوا تھا۔ سمندر کی تاریک سطح پر روشنی کی ایک دھاری بھی نظر نہ آ رہی تھی۔ بارش کاجل کی طرح تمام فضا پر برس رہی تھی۔
وہ بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑی اپنے خاوند کے خایل مںی مستغرق رہی۔ جو اس بارش مںم سمندر کی تند موجوں کے مقابلے مںش لکڑی کے ایک معمولی تختے اور کمزور بادبان سے مسلح تھا۔ وہ ابھی اسکی عافتی کےیچل دعا مانگ رہی تھی کہ یکایک اس کی نگاہںط اندھراے مںو ایک شکستہ جھونپڑی کی طرف اٹھںھ، جو تاروں سے محروم آسمان کی طرف ہاتھ پھلا ئے لرز رہی تھی۔ اس جھونپڑی مںک روشنی کا نام تک نہ تھا۔ کمزور دروازہ کسی نا معلوم خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ تنکوں کی چھت ہوا کے دبا تلے دوہری ہو رہی تھی۔
"
آہ، خدا معلوم بچائری بورہ کا کا۔ حال ہے۔۔۔۔۔۔اسے کئی روز سے بخار آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ماہی گرو کی بو،ی زیرِ لب بڑبڑائی اور یہ خاال کرتے ہوئے کہ شاید کسی روز وہ بھی اپنے خاوند سے محروم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔کانپ اٹھی۔
وہ شکستہ جھونپڑی ایک بوبہ کی تھی جو اپنے دو کم سن بچوں سمتن روٹی کے قحط مں۔ موت کی گھڑیاں کاٹ رہی تھی۔ مصبتر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ مںو اس پر کوئی سایہ کرنے والا نہ تھا۔ رہا سہا سہارا دو ننھے بچے تھے جو ابھی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔
ماہی گرم کی بوبی کے دل مںے ہمدردی کا جذبہ امڈا۔ بارش سے بچا کے لے سر پر ٹاٹ کا ایک ٹکڑا رکھ کر اور ایک اندھی لالٹنن روشن کرنے کے بعد وہ جھونپڑی کے پاس پہنچی اور دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لہروں کا شور اور تزل ہواں کی چخ پکار اس دستک کا جواب تھے، وہ کانپی اور خارل کای کہ شاید اس کی اچھی ہمسائی گہری نندک سو رہی ہے۔
اس نے ایک بار پھر آواز دی، دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب پھر خاموشی تھا۔۔۔۔۔۔کوئی صدا، کوئی جواب اس جھونپڑی کے بوسدہہ لبوں سے نمودار نہ ہوا۔ یکایک دروازہ، جسے اس بے جان چزئ نے رحم کی لہر محسوس کی، متحرک ہوا اور کھل گای۔
ماہی گرن کی بوری جھونپڑی کے اندر داخل ہوئی اور اس خاموش قبر کو اپنی اندھی لالٹنڑ سے روشن کر دیا، جس مںس لہروں کے شور کے سوا مکمل سکوت طاری تھا۔ پتلی چھت سے بارش کے قطرے بڑے بڑے آنسوں کی صورت مںو ساجہ زمن کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا مںب ایک مہبن خوف سانس لے رہا تھا۔
ماہی گرڑ کی بوری اس خوفناک سماں کو دیکھ کر جو جھونپڑی مںا سمٹا ہوا تھا سر تا پا ارتعاش بن کر رہ گئی۔ آنکھوں مںا گرم گرم آنسو چھلکے اور بے اختاار اچھل کر بارش کے ٹپکے ہوئے قطروں کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور دردناک آواز مںڑ کہنے لگی۔
"
آہ۔۔۔۔۔تو ان بوسوں کا جو جسم کو راحت بخشتے ہں ، ماں کی محبت، گت ، تبسم، ہنسی اور ناچ کا ایک ہی انجام ہے۔۔۔۔۔۔۔یینی قبر۔۔۔۔۔۔۔آہ مردے خدا۔"
اس کے سامنے پھوس کے بستر پر بو ہ کی سرد لاش اکڑی ہوئی تھی اور اس کے پہلو مںا دو بچے محو خواب تھے۔ لاش کے سنےی مںط ایک آہ کچھ کہنے کو رکی ہوئی تھی۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھںس جھونپڑی کی خستہ چھت کو چرہ کر تاریک آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھں ، جسے انہںک کچھ پغاکم دینا ہے۔
ماہی گرک کی بوای اس وحشت خزو منظر کو دیکھ کر چلا اٹھی۔ تھوڑی دیر دیوانہ وار ادھر ادھر گھومی۔ یکایک اس کی نمناک آنکھوں مںد ایک چمک پدیا ہوئی، اور اس نے لپک کر لاش کے پہلو سے کچھ چزر اٹھا کر اپنی چادر مں لپٹز لی اور اس دار الخطر سے لڑکھڑاتی ہوئی اپنی جھونپڑی مںم چلی آئی۔
چہرے کے بدلے ہوئے رنگ اور لرزاں ہاتھوں سے اس نے اپنی جھولی کو ملےن بستر پر خالی کر دیا اور اس پر پھٹی ہوئی چادر ڈال دی۔ تھوڑی دیر بو ہ سے چھیمں ہوئی چز کی طرف دیکھ کر وہ اپنے بچوں کے پاس زمنل پر بٹھے گئی۔
مطلع سمندر کے افق پر سپدم ہو رہا تھا۔ سورج کی دھندلی شعاعںے تارییک کا تعاقب کر رہی تھںا۔ ماہی گرں کی بویی بیھس اپنے احساسِ جرم کے شکستہ تار چھڑر رہی تھی۔ ان غر۔ مربوط الفاظ کے ساتھ کن سری لہریں اپنی مغموم تانںو چھڑی رہی تھںا۔
"
آہ مںس نے بہت برا کاو۔ اب اگر وہ مجھے مارے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔۔۔۔یہ بھی عجبی ہے کہ مںی اس سے خائف ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔کا واپس چھوڑ آں۔۔۔۔۔۔نہںا۔۔۔۔۔۔شاید وہ مجھے معاف کردے۔"
وہ اسی قسم کے خاکلات مں۔ غلطاں و پچا ں بیھک ہوئی تھی کہ ہوا کے زور سے دروازہ ہلا۔ یہ دیکھر اسکا کلجہب دھک سے رہ گا ، وہ اٹھی اور کسی کو نہ پا کر وہںا متفکر بٹھ گئی۔
"
ابھی نہںے۔۔۔۔۔۔۔بچافرہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ان بچوں کےرہ کتنی تکلفد اٹھانی پڑتی ہے۔ اکلےی آدمی کو سات پٹر پالنے پڑتے ہں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ شور کاک ہے؟"
یہ آواز چیتکن ہوئی ہوا کی تھی جو جھونپڑی کے ساتھ رگڑ کر گزر رہی تھی۔
"
اس کے قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ نہںں ہوا ہے۔" یہ کہہ کر وہ پھر اپنے اندرونی غم مںا ڈوب گئی۔ اب اس کے کانوں مںک ہوا اور لہروں کا شور مفقود ہوگاے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنے مں۔ خاہلات کے تصادم کا کای کم شور تھا۔
آبی جانور ساحل کے آس پاس چلا رہے تھے۔ پانی مںا گھسے ہوئے سنگریزے ایک دوسرے سے ٹکرا کر کھنکھنا رہے تھے۔ کشتی کے چپوں کی آواز صبح کی خاموش فضا کو مرتعش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماہی گرں کی بوای کشتی کی آمد سے بے خبر اپنے خاالات مںی کھوئی ہوئی تھی۔
دفعتاً دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا۔۔۔۔۔۔صبح کی دھندلی شعاعںش جھونپڑی مںد تررتی ہوئی داخل ہوئںے، ساتھ ہی ماہی گرں کاندھوں پر ایک بڑا سا جال ڈالے دہلزک پر نمودار ہوا۔
اس کے کپڑے رات کی بارش اور سمندر کے نمکن۔ پانی سے شرابور ہو رہے تھے۔ آنکھںن شب بدواری کی وجہ سے اندر کو دھنسی ہوئی تھں ۔ جسم سردی اور غرا معمولی مشقت سے اکڑا ہوا تھا۔
"
نسمک کے ابا، تم ہو۔" ماہی گر۔ کی بو ی چونک اٹھی اور عاشقانہ بتاپبی سے اپنے خاوند کو چھاتی سے لگا لا۔۔
"
ہاں مںق ہوں پا ری"
یہ کہتے ہوئے ماہی گر۔ کے کشادہ مگر مغموم چہرے پر مسرت کی ایک دھندلی روشنی چھا گئی۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔بولی کی محبت نے اس کے دل سے رات کی کلفت کا خاکل محو کر دیا۔
"
موسم کسا۔ تھا؟" بوکی نے محبت بھرے لہجے مں دریافت کاٹ۔
"
تند"
"
مچھلاکں ہاتھ آئںق؟"
"
بہت کم۔۔۔۔۔آج رات تو سمندر قزاقوں کے گروہ کی مانند تھا۔"
یہ سن کر اس کی بو ی کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ماہی گرش نے اسے مغموم دیکھا اور مسکرا کر بولا۔
"
تو مرکے پہلو مں ہے۔۔۔۔۔۔مرےا دل خوش ہے۔"
"
ہوا تو بہت تز ہوگی؟"
"
بہت تزم، معلوم ہو رہا تھا کہ دناو کہ تمام شطاہن مل کر اپنے منحوس پر پھڑ پھڑا رہے ہںت۔ جال ٹوٹ گاش۔ رساتں کٹ گئںے اور کشتی کا منہ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔" پھر اس گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔ "مگر تم شب بھر کا کرتی رہی ہو پاھری؟"
بولی کسی چز کا خاال کرکے کانپی اور لرزاں آواز مںر جواب دیا۔ "مں ۔۔۔۔۔۔آہ کچھ بھی نہںش۔۔۔۔۔۔۔سیہی پروتی رہی، تمھاری راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔۔لہریں بجلی کی طرح کڑک رہی تھں ، مجھے سخت ڈر لگ رہا تھا۔"
"
ڈر۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"
اور ہاں، ہماری ہمسایہ بوتہ مر گئی ہے۔" بوآی نے اپنے خاوند کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
ماہی گرو نے یہ دردناک خبر سنی مگر اسے کچھ تعجب نہ ہوا۔ شاید اس لے کہ وہ ہر گھڑی اس عورت کی موت کی خبر سننے کا متوقع تھا۔ اس نے آہ بھری اور صرف اتنا کہا۔ "بچا ری سدھار گئی ہے۔"
"
ہاں اور دو بچے چھوڑ گئی ہے جو لاش کے پہلو مںم لٹےع ہوئے ہںآ۔"
یہ سن کر ماہی گرگ کا جسم زور سے کانپا اور اس کی صورت سنجدئہ و متفکر ہوگئی۔ ایک کونے مںا اپنی اونی ٹوپی، جو پانی سے بھگٹ رہی تھی، پھنکہ کر سر کھجلایا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آپ سے بولا۔
"
پانچ بچے تھے، اب سات ہوگئے ہںت۔۔۔۔۔۔اس سے پشترق ہی اس تند موسم مںہ ہمںر دو وقت کا کھانا نصبہ نہں، ہوتا تھا۔ اب مگر خر ۔۔۔۔یہ مرنا قصور نہںا۔ اس قسم کے حوادث بہت گہرے معانی رکھتے ہںی۔"
وہ کچھ عرصے تک اسی طرح اپنا سر گھٹنوں مں۔ دبائے سوچتا رہا۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ خدا نے ان بچوں سے جو اس کی مٹھی کے برابر بھی نہںل ہںہ، ماں کووں چھنں لی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بچوں سے جو نہ کام کر سکتے ہںم اور نہ ہی کسی چزآ کی خواہش ہی کر سکتے ہں ۔۔۔۔۔۔اسکا دماغ ان سوالوں کا کوئی حل نہ پشا کر سکا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا۔
"
شاید اییں چزنوں کو ایک پڑھا لکھا ہی سمجھ سکتا ہے۔" اور پھر اپنی بوںی سے مخاطب ہو کر بولا۔ "پاپری جا انہںت یہاں لے آ۔ وہ کس قدر وحشت زدہ ہونگے اگر وہ صبح اپنی ماں کی لاش کے پاس بد ار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انکی ماں کی روح سخت بے قرار ہوگی، جا انھںو ابھی لکرے آ۔"
یہ کہہ کر وہ سوچنے لگا کہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔ وہ بڑے ہو کر اس کے گھٹنوں پر چڑھنا سکھا جائنگے ۔ خدا ان اجنبوپں کو جھونپڑی مں دیکھ کر بہت خوش ہوگا اور انھںہ زیادہ کھانے کو عطا کرے گا۔
"
تمھںم فکر نہںگ کرنی چاہئےر پاکری۔۔۔۔۔۔۔مں زیادہ محنت سے کام کروں گا۔" اور پھر اپنی بوای کو چارپائی کی طرف روانہ ہوتے دیکھ کر بلند آواز مں کہنے لگا۔ "مگر تم سوچ کا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔اس دھیر چال سے نہں چلنا چاہئے تمھںر۔"
ماہی گرن کی بوری نے چارپائی کے پاس پہنچ کر چادر کو الٹ دیا۔
"
وہ تو یہ ہںر۔"
دو بچے صبح کی طرح مسکرا رہے تھے۔ (یکم فروری )1935 ) ماہی گرم

Monday, October 15, 2012

Monday, February 21, 2011

وہ بڈھا

Minto


''راجندر سنگھ بیدی''
میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کا ایک پرس تھا، جس میں چاندی کے تار سے کچھ کڑھا ہوا تھا اور میں ہاتھ میں اسے گھما رہی تھی۔ کچھ دیر میں اچک کر فٹ پاتھ پر ہوگئی، کیو ں کہ مین روڈ پر سے ادھر آنے والی بسیں اڈے پر پہنچنے اور ٹائم کیپر کو ٹائم دینے کے لئے یہاں آکر ایک دم راستہ کاٹتی تھیں۔ اس لئے اس موڑ پر آئے دن حادثے ہوتے رہتے تھے۔ بس تو خیر نہیں آئی لیکن اس پر بھی ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ میرے دائیں طرف سامنے کے فٹ پاتھ کے ادھر مکان تھا اور میرے الٹے ہاتھ اسکول کی سیمنٹ سے بنی ہوئی دیوار، جس کے اس پار مشنری اسکول کے فادر لوگ ایسٹر کے سلسلے میں کچھ سجا سنوار رہے تھے۔ میں اپنے آپ سے بے خبر تھی، لیکن یکا یک نہ جانے مجھے کیوں ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ایک لڑکی ہوں.... جوان لڑکی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ میں نہیں جانتی۔ مگر ایک بات کا مجھے پتہ ہے ہم لڑکیاں صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتیں۔ جانے پرماتما نے ہمارا بدن کیسے بنایا ہے کہ اس کا ہر پور دیکھتا، محسوس کرتا، پھیلتا اور سمٹتا ہے۔ گدگدی کرنے والا ہاتھ لگتا بھی نہیں کہ پورا شریر ہنسنے مچلنے لگتا ہے۔ کوئی چوری چکے دیکھے بھی تو یوں لگتا ہے جیسے ہزاروں سوئیاں ایک ساتھ چبھنے لگیں، جن سے تکلیف ہوتی ہے اور مزہ بھی آتا ہے البتہ کوئی سامنے بے شرمی سے دیکھے تو دوسری بات ہے۔  اس دن کوئی میرے پیچھے آرہا تھا۔ اسے میں نے دیکھا تو نہیں، لیکن ایک سنسناہٹ سی میرے جسم دوڑ گئی۔ جہاں میں چل رہی تھی، وہا ں برابر میں ایک پرانی شیور لیٹ گاڑی آکر رکی، جس میں ادھیڑ عمر کا بلکہ بوڑھا مرد بیٹھا تھا۔ وہ بہت معتبر صورت اور رعب داب والا آدمی تھا، جس کے چہرے پر عمر نے خوب لڈو کھیلی تھی۔ اس کی آنکھ تھوڑی دبی ہوئی تھی، جیسے کبھی اسے لقوہ ہوا ہو اور وٹامن سی اور بی کمپلیکس کے ٹیکے وغیرہ لگوانے، شیرکی چربی کی مالش کرنے یا کبوتر کا خون ملنے سے ٹھیک تو ہوگیا ہو، لیکن پورا نہیں۔ ایسے لوگوں پر مجھے بڑا ترس آتا ہے کیونکہ وہ آنکھ نہیں مارتے اور پھر بھی پکڑے جاتے ہیں۔ جب اس نے میری طرف دیکھا تو پہلے میں بھی اسے غلط سمجھ گئی، لیکن چونکہ میرے اپنے گھر میں چچا گووند اسی بیماری کے مریض ہیں، اس لئے میں اصل وجہ جان گئی۔ دیر تک میں اپنے آپ کو شرمندہ سی محسوس کرتی رہی۔ اس بڈھے کی داڑھی تھی جس میں روپے کے برابر ایک سپاٹ سی جگہ تھی۔ ضرور کسی زمانے میں وہاں اس کے کوئی بڑا سا پھوڑا نکلا ہوگا جو ٹھیک تو ہوگیا لیکن بالوں کو جڑ سے غائب کرگیا۔ اس کی داڑھی سر کے بالوں سے زیادہ سفید تھی۔ سر کے بال کچھڑی تھے۔ سفید زیادہ اور کالے کم، جیسے کسی نے ماش کی دال تھوڑی اور چاول زیادہ ڈال دئے ہوں۔ اس کا بدن بھاری تھا، جیسا کہ اس عمر میں سب کا ہو جاتا ہے۔ میرا بھی ہو جائے گا....کیا میٹرن گوں لگی؟ لوگ کہتے ہیں تمہاری ماں موٹی ہے، تم بھی آگے چل کر موٹی ہو جاو گی.... عجیب بات ہے نا کہ کوئی عمر کے ساتھ آپ ہی آپ ماں ہو جائے.... یا باپ۔ بڈھے کے قد کا البتہ پتہ نہ چلا، کیوں کہ وہ موٹر میں ڈھیر تھا۔ کار رکتے ہی اس نے کہاسنو۔ میں رک گئی، اس کی بات سننے کے لئے تھوڑا جھک بھی گئی۔ میں نے تمہیں دور سے دیکھا وہ بولا۔ میں نے جواب دیا جی۔ میں جو تم سے کہنے جا رہا ہوں اس پر خفا نہ ہونا۔ کہ.... میں نے سیدھی کھڑی ہو کر کہا۔ اس بڈھے نے پھر مجھے ایک نظر دیکھا، لیکن میرے جسم میں سنسناہٹ نہ دوڑی، کیوں کہ وہ بڈھا تھا۔ پھر اس کے چہرے سے بھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں معلوم ہوتی تھی، ورنہ لوگ تو کہتے ہیں کہ بڈھے بڑے ٹھرکی ہوتے ہیں۔ تم جارہی تھیں۔ اس نے پھر بات شروع کی اور تمہاری یہ ناگن، دایاں پاوں اٹھنے پر بائیں طرف اور بایاں پاوں اٹھنے پر دائیں طرف جھوم رہی تھی....میں ایک دم کانشس ہو گئی۔ میں نے اپنی چوٹی کی طرف دیکھا جو اس وقت نہ جانے کیسے سامنے چلی آئی تھی۔ میں نے بغیر کسی اراد ے کے سر کو جھٹکا دیا اور ناگن جیسے پھنکارتی ہوئی پھر پیچھے چلی گئی۔ بڈھا کہے جا رہا تھامیں نے گاڑی آہستہ کرلی اور پیچھے سے تمہیں دیکھتا رہا.... اور آخر وہ بڈھا ایک دم بولا تم بہت خوبصورت لڑکی ہو۔میرے بدن میں جیسے کوئی تکلف پیدا ہو گیا اور میں کروٹ کروٹ بدن چرانے لگی۔ بڈھا منتر مگدھ مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی اس کی بات کا کیا جواب دوں؟ میں نے سنا ہے، باہر کے دیسوں میں کسی لڑکی کو کوئی ایسی بات کہہ دے تو وہ بہت خوش ہوتی ہے، شکریہ ادا کرتی ہے لیکن ہمارے یہاں کوئی رواج نہیں۔ الٹا ہمیں آگ لگ جاتی ہے۔ ہم کیسی بھی ہیں، کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ہمیں ایسی نظروں سے دیکھے؟ اور وہ بھی یوں.... سڑک کے کنارے، گاڑی روک کر۔ بدیسی لڑکیوں کا کیا ہے، وہ تو بڈھوں کو پسند کرتی ہیں۔ اٹھارہ بیس کی لڑکی ساٹھ ستر کے بوڑھے سے شادی کرلیتی ہے۔ میں نے سوچا، یہ بڈھا آخر چاہتا کیاہے؟ میں اس خوبصورتی کی بات نہیں کرتا۔  وہ بولا جسے عام آدمی خوبصورتی کہتے ہیں مثلا وہ گورے رنگ کو اچھا سمجھتے ہیں۔ مجھے جھر جھری سی آئی۔ آپ دیکھ ہی رہے ہیں میرا رنگ کوئی اتنا گورا بھی نہیں سانولا بھی نہیں بس.... بیچ کا ہے۔ میں نے تو .... میں تو شرما گئی۔ آپ؟  میں نے کہا اور پھر آگے پیچھے دیکھنے لگی کہ کوئی دیکھ تونہیں رہا؟ بس دندناتی ہوئی آئی اور یوں پاس سے گزر گئی کہ اس کے اور کار کے درمیان بس انچ بھر کا فاصلہ رہ گیا لیکن وہ بڈھا دنیا کی ہر چیز سے بے خبر تھا۔ مرنا تو آخر ہر ایک کو ہے لیکن وہ اس وقت کی بے کار اور فضول موت سے بھی بے خبر تھا۔ جانے کن دنیاوں میں کھویا ہوا تھا وہ؟ دو تین گھاٹیراما لوگ وہاں سے گزرے۔ وہ کسی نوکری پگار کے بارے میں جھگڑا کرتے جا رہے تھے۔ ان کا شور جو ایسٹر کی گھنٹیوں میں گم ہوگیا۔ دائیں طرف کے مکان کی بالکنی پر ایک دبلی سی عورت اپنے بالوں میں کنگھی کرتی ہوئی آئی اور ایک بڑا سا گچھا بالوں کا کنگھی میں سے نکال کر نیچے پھینکتی ہوئی واپس اندر چلی گئی۔ کسی نے خیال بھی نہ کیا کہ سڑک کے کنارے میرے اور اس بوڑھے کے درمیان کیا معاملہ چل رہا ہے۔ شاید اس لئے کہ لوگ اسے میرا کوئی بڑا سمجھتے تھے۔۔ بوڑھا کہتا رہاتمہارا یہ کندنی رنگ، یہ گٹھا ہوا بدن ہمارے ملک میں ہر لڑکی کا ہونا چاہئے اور پھر یکا یک بولاتمہاری شادی تو نہیں ہوئی؟ نہیں۔ میں نے جواب دیا۔ کرنا بھی تو کسی گبرو جوان سے۔ جی۔۔۔اب خون میرے چہرے تک ابل ابل کر آنے لگاتھا۔ آپ سوچئے آنا چاہئے تھے یا نہیں؟ لیکن اس سے پہلے کہ میں اس بڈھے کو کچھ کہتی اس نے ایک نئی بات شروع کردی۔ تم جانتی ہو، آج کل یہاں چور آئے ہوئے ہیں؟ چور؟ میں نے کہا کیسے چور۔ جو بچوں کو چرا کر لے جاتے ہیں.... انہیں بے ہوش کر کے ایک گٹھر ی میں ڈال لیتے ہیں۔ ایک وقت میں چار چار پانچ پانچ۔مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ میں نے کہا بھی تو صرف اتنا تو؟ میرا مطلب ہے مجھے.... میرا اس بات سے کیا تعلق ؟اس بڈھے نے کمر سے نیچے میری طرف دیکھا اور بولادیکھنا کہیں پولیس تمہیں پکڑ کر نہ لے جائے۔ اور اس کے بعد اس بڈھے نے ہاتھ ہوا میں لہرایا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے چلا گیا۔ میں بے حد حیران کھڑی تھی.... چور....گٹھری، جس میں چار چار پانچ پانچ بچے.... جب ہی میں نے خود بھی اپنے نیچے کی طرف دیکھا اور اس کی بات سمجھ گئی۔ میں ایک دم جل اٹھی.... پاجی، کمینہ شرم نہ آئی اسے؟ میں اس کی پوتی نہیں تو بیٹی کی عمر کی تو ہوں ہی اور یہ مجھ سے ایسی باتیں کر گیا، جو لوگ بدیس میں بھی نہیں کرتے۔ اسے حق کیا تھا کہ ایک لڑکی کو سڑک کے کنارے کھڑی کرلے اور ایسی باتیں کرے ایک عزت والی لڑکی سے۔ ایسی باتیں کرنے کی اسے ہمت کیسے ہوئی؟ آخر کیا تھا مجھ میں؟ یہ سب اس نے مجھ سے ہی کیوں کہا؟ بے عزتی کے احساس سے میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے.... میں کیا ایک اچھے گھر کی لڑکی دکھا ئی نہیں دیتی؟ میں نے لباس بھی ایسا نہیں پہنا جو بازاری قسم کا ہو قمیص البتہ فٹ تھی، جیسی عام لڑکیوں کی ہوتی ہے اور نیچے شلوار۔ کیوں یہ ایسا کیوں ہوا؟ ایسے کو تو پکڑ کر مارنا اور مار مار کر سور بنا دینا چاہئے۔ پولیس میں اس کی رپٹ کرنی چاہئے۔ آخر کوئی تک ہے؟ اس کی گاڑی کا نمبر؟ .... مگر جب تک گاڑی موڑ پر نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی۔ میں بھی کتنی مورکھ ہوں جو نمبر بھی نہیں لیا۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ وقت پر دماغ کبھی کام نہیں کرتا، بعد میں یاد آتا ہے تو خود ہی سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ میں نے سائیکالوجی کی کتاب میں پڑھا ہے، ایسی حرکت وہی لوگ کرتے ہیں جو دوسروں کی عزت بھی کرتے ہیں اور اپنی بھی۔ اسی لئے مجھے وقت پر نمبر لینا بھی یاد نہ آیا۔ میں رونکھی سی ہو گئی۔ سامنے سے پودار کالج کے کچھ لڑکے گاتے، سیٹیاں بجاتے ہوئے گزر گئے۔ انہوں نے تو ایک نظر بھی میری طرف نہ دیکھا.... مگر یہ بڈھا؟! میں دراصل دادر اون کے گولے خریدنے جا رہی تھی۔ میرا فرسٹ کزن بیگل سویڈن میں تھا، جہاں بہت سردی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ میں کوئی آٹھ پلائی کی اون کا سویٹر بن کر اسے بھیج دوں۔ کزن ہونے کے ناطے وہ میرا بھائی تھا، لیکن تھا بدمعاش۔ اس نے لکھا تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا سویٹر بدن پر رہے گا تو سردی نہیں لگے گی! میرے گھر میں اور کوئی بھی تو نہ تھا۔ بی اے پاس کر چکی تھی اور پاپا کہتے تھےآگے پڑھائی سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں اگر کسی لڑکی کو پروفیشن میں جانا ہو تو ٹھیک ہے لیکن اگر ہر ہندوستانی لڑکی کی شادی ہی اس کاپروفیشن ہے تو پھر آگے پڑھنے سے کیا فائدہ؟ اس لئے میں گھر میں ہی رہتی اور آلتو فالتو کام کرتی تھی، جیسے سویٹر بننا یا بھیا اور بھابھی بہت رومانٹک ہو جائیں اور سینما کا پرو گرام بنالیں تو پیچھے ان کی بچی بندو کو سنبھالنا، اس کے گیلے کپڑوں، پوتڑوں کو دھونا سوکھانا وغیرہ لیکن بڈھے سے اس مڈبھیڑ کے بعد میں جیسے ہل ہی نہ سکی۔ میرے پاوں میں جیسے کسی نے سیسہ بھر دیا۔ پتہ نہیں آگے چل کر کیا ہو؟ اور بس میں گھر لوٹ آئی....اتنی جلدی گھر لوٹتے دیکھ کر ماں حیران رہ گئی۔ اس نے سمجھا کہ میں اون کے گولے خرید بھی لائی ہوں لیکن میں نے قریب قریب روتے ہوئے اسے ساری بات کہہ سنائی۔ اگر گول کر گئی تو وہ چار چار پانچ پانچ بچوں والی بات۔ کچھ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو بیٹی ماں سے بھی نہیں کہہ سکتی۔ ماں کو بڑا غصہ آیا اور وہ ہوا میں گالیاں دینے لگی۔ عورتوں کی گالیاں جن سے مردوں کا کچھ نہیں بگڑتا اور جو انہیں اور بھی مشتعل کرتی ہیں۔ آخر ماں نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا  اب تجھے کیا بتاوں بیٹا۔ یہ مرد سب ایسے ہوتے ہیں.... کیا جوان کیا بڈھے۔ لیکن ماں میں نے کہا پاپا بھی تو ہیں۔ ماں بولی  اب میرا منہ نہ کھلواو۔کیا مطلب ؟ دیکھا نہیں تھا اس دن؟ کیسے راما لنگم کی بیٹی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ کچھ بھی ہو، ماں کے اس مرد کو گالیاں دینے سے ایک حد تک میرا دل ٹھنڈا ہوگیا تھا مگر بڈھے کی باتیں رہ رہ کر میرے کانوں میں گونج رہی تھیں اور میں سوچ رہی تھی....کہیں مل جائے تو میں .... اور اس کے بعد میں اپنی بے بسی پر ہنسنے لگی۔ ذرا دیر بعد میں اٹھ کر اند رآگئی۔ سامنے آئینہ تھا۔ میں رک گئی اور اپنے سراپے کو دیکھنے لگی۔ کولھوں سے نیچے نظر گئی تو پھر مجھے اس کی چار چار پانچ پانچ بچوں والی بات یاد آگئی اور میرے گالوں کی لویں تک گرم ہونے لگیں۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ پھر میں کس سے شرما رہی تھی؟ ہو سکتا ہے بدن کا یہی حصہ جسے لڑکیاں پسند نہیں کرتیں مردوں کو اچھا لگتا ہو۔ جیسے لڑکے سیدھے اور ستواں بدن کا مذاق اڑاتے ہیں اور نہیں جانتے وہی ہم عورتوں کو اچھا لگتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد کو سوکھا سڑا ہونا چاہئے۔ نہیں ان کا بدن ہو تو اوپر سے پھیلا ہوا۔ مطلب.... چوڑے کاندھے، چکلی چھاتی اور مضبوط بازو۔ البتہ نیچے سے سیدھا اور ستواں ہی ہونا چاہئے۔اتنے میں باپا بیچ والے کمرے میں چلے آئے، جہاں میں کھڑی تھی۔ میرے خیالوں کا وہ تار ٹوٹ گیا۔ پاپا آج بڑے تھکے تھکے سے نظر آئے تھے، کوٹ جو وہ پہن کر دفتر گئے تھے، کاندھے پر پڑا ہوا تھا۔ ٹوپی کچھ پیچھے سرک گئی تھی۔ انہوں نے اندر آکر ایسے ہی کہا، بیٹا اور پھر ٹوپی اٹھا کر اپنے گنجے سر کو کھجایا۔ ٹوپی پھرسر پر رکھنے کے بعد وہ باتھ روم کی طرف چلے گئے، جہاں انہوں نے قمیص اتاری۔ ان کا بنیان پسینے سے تر تھا۔ پہلے انہوں نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، پھر اوپر طاق سے یوڈی کلون نکال کر بغلوں میں لگائی۔ ایک نیپکن سے منہ پونچھتے ہوئے لوٹ آئے اور جیسے بے فکر ہو کر خود کو صوفے میں گرا دیا۔ ماں نے پوچھا سکنجبین لوگے؟ جواب میں انہوں نے کہا، کیوں؟ وہسکی ختم ہوگئی؟.... ابھی پرسوں ہی تو لایا تھا، میکن کی بوتل۔جب میں بوتل اور گلاس لائی تو ماں اور پاپا آپس میں کچھ بات کر رہے تھے۔ میرے آتے ہی وہ خاموش ہو گئے۔ میں ڈر گئی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ اس بڈھے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن نہیں.... وہ چچا گووند کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ آخری بات سے مجھے یہی انداز ہوا چچا اندر سے کچھ اور ہیں، باہر سے کچھ اور۔ پھر کھانا وانا ہوا.... جس میں رات ہوگئی۔ بیچ میں بے موسم کی برسات کا کوئی چھینٹا پڑ گیا تھا اور گھر کے سامنے لگے ہوئے اشوک پیڑ کے پتے، خاکی خاکی، لمبوترے پتے، زیادہ ہرے اور چمکیلے ہو گئے تھے۔ سڑک پر کمیٹی کی بتی سے نکلنے والی روشنی ان پر پڑتی تھی تو وہ چمک چمک جاتے تھے۔ ہوا مسلسل نہیں چل رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک ایک جھونکا کر کے آرہی ہے اور جب اشوک کے پتوں سے جھونکا آکر ٹکراتا اور شاں شاں کی آواز پیدا ہوتی تو یوں لگتا جیسے ستار کا جھالاہے۔ ہمارے نانکو نے بستر لگا دیا تھا۔ میری عادت تھی کہ ادھر بستر پر لیٹی، ادھر سو گئی، لیکن اس دن نیند تھی کہ آہی نہیں رہی تھی۔ شاید اس لئے کہ سڑک پر لگے بلب کی روشنی ٹھیک میرے سرہانے پر پڑ تی تھی اور جب میں دائیں کروٹ لیتی تو میری آنکھوں میں چبھنے لگتی تھی۔ میں نے آنکھیں موند کر دیکھا تو بجلی کا بلب ایک چھوٹا سا چاند بن گیا۔ جس میں ہالے سے باہر کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ میں نے اٹھ کر بیڈ کو تھوڑا سا سرکا لیا لیکن اس کے باوجود وہ کرنیں وہیں تھیں فرق صرف اتنا تھا کہ اب وہ خود میرے اپنے اندر سے پھوٹ رہی تھیں۔ آپ تو جانتے ہیں جیوتی شبد ہو جاتی ہے اور شبد جیوتی۔ وہ کرنیں بھی آواز میں بد ل گئیں.... اسی بڈھے کی آواز میں! دھت! میں نے کہا اور اسی کروٹ لیٹے لیٹے من میں گایتری کا پاٹ کرنے لگی لیکن وہی کرنیں چھوٹے چھوٹے، گول گول، گدرائے گدرائے بچوں کی شکل میں بدلنے لگیں۔ ان کے پیچھے ایک گبرو جوان کا چہرہ نظر آرہا تھا، لیکن دھندلا دھندلا سا۔ وہ شاید ان بچوں کا باپ تھا۔اس کی شکل اس بڈھے کی شکل سے ملتی تھی....نہیں تو.... پھر اس نوجوان کی شکل صاف ہونے لگی۔ وہ ہنس رہا تھا۔ اس کی بتیسی کتنی سفید اور پکی تھی۔ اس نے فوج کی لیفٹیننٹ کی وردی پہن رکھی تھی۔ نہیں.... پولیس انسپکٹر کی۔ نہیں.... سوٹ، ایوننگ سوٹ، جس میں وہ بے حد خوبصورت معلوم ہو رہا تھا۔ اپنی نیند واپس لانے کے لئے میں نے ٹیچر کا بتایا ہوا نسخہ استعمال کرنا شروع کیا۔ میں فرضی بھیڑیں گننے لگی۔ مگر بے کار تھا، سب کچھ بے کار تھا۔ پر ماتماجانے اس بڈھے نے کیا جادو جگایا تھا، یا میری اپنی ہی قسمت پھوٹ گئی تھی۔ اچھی بھلی جارہی تھی، بیگل کے لئے اون کے گولے خریدنے۔ بیگل! دھت.... وہ میرا بھائی تھا۔ پھر گولے کے اون کے موٹے موٹے بنے ہوئے دھاگے پتلے ہوتے گئے اور مکڑی کے جال کی طرح میرے دماغ میں الجھ گئے۔ پھر جیسے سب صاف ہوگیا۔ اب سامنے ایک چٹیل میدان تھا، جس میں کوئی ولی اوتار بھیڑیں چرا رہا تھا۔ وہ بش شرٹ پہنے ہوئے تھا، تندرست، مضبوط اور خوبصورت۔ لاابالی پن میں اس نے شرٹ کے بٹن کھول رکھے تھے اور چھاتی کے بال صاف اور سامنے نظر آرہے تھے، جن میں سر رکھ کر اپنے دکھڑے رونے میں مزہ آتا ہے۔ وہ بھیڑیں کیوں چرا رہا تھا؟ اب مجھے یاد ہے وہ بھیڑیں گنتی میں تہتر تھیں.... میں سو گئی.... مجھے کچھ ہوگیا۔ نہ صرف یہ کہ میں بار بار خود کو آئینے میں دیکھنے لگی بلکہ ڈرنے بھی لگی۔ بچے بری طرح میر ے پیچھے پڑے ہوئے تھے اورمیں پکڑے جانے کے خوف میں کانپ رہی تھی۔ گھر میں میرے رشتے کی باتیں چل رہی تھیں۔ روز کوئی نہ کوئی دیکھنے کو چلا آتا تھا، لیکن مجھے ان میں سے کوئی بھی پسند نہ تھا۔ کوئی مرا مرگھلا تھا اور کوئی تندرست تھا بھی تو اس نے کنویکس شیشوں والی عینک لگا رکھی تھی۔ اس صاحب نے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔ کی ہوگی۔ نہیں چاہئے کیمسٹری۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھاجو میری نظر میں جچ سکے.... وہ نظر جو اب میری نہ تھی، بلکہ اس بڈھے کی نظر ہو چکی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اب سینما تماشے جانے کو بھی میرادل نہیں چاہتا تھا، حالان کہ شہر میں کئی نئی اور اچھی پکچریں لگی تھیں اور وہی ہیرو لوگ ان میں کام کرتے تھے جو کل تک میرے چہیتے تھے لیکن اب وہ یکایک مجھے سسی دکھائی دینے لگے۔ وہ ویسے ہی پیڑ کے پیچھے سے گھوم کر لڑکی کے پاس آتے تھے اور عجیب طرح کی زنانہ حرکتیں کرتے ہوئے اسے لبھانے کی کوشش کرتے تھے۔ بھلا مرد ایسے کہاں ہوتے ہیں؟ عورت کے پیچھے بھاگتے ہوئے....ہشت! وہ تو اسے موقع ہی نہیں دیتے کہ وہ ان کے لئے روئے، تڑپے۔ حد ہے نا، مرد ہی نہیں جانتے کہ مرد کیا ہے؟ ان میں سے ایک بھی تو میری کسوٹی پر پورا نہیں اتر تا تھا.... جو میری کسوٹی بھی نہ تھی۔ ان ہی دنوں میں نے اپنے آپ کو پریج کے میدان میں پایا جہاں ہند اور پاکستان کے بیچ ہاکی میچ ہو رہا تھا۔ پاکستان کے گیارہ کھلاڑیوں میں سے کم از کم چار پانچ ایسے تھے جو نظروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ادھر ہند کی ٹیم میں بھی اتنی ہی تعداد میں خوابوں کے شہزادے موجود تھے.... چار پانچ، جن میں سے دو سکھ تھے۔ چار پانچ ہی کیوں؟ مجھے ہنسی آئی.... پاکستان کا سنٹر فارورڈ عبد الباقی.... کیا کھلاڑی تھا! اس کی ہاکی کیا تھی؟ چمبک پتھر تھی، جس کے ساتھ گیند چمٹی ہی رہتی تھی۔ یوں پاس دیتا تھا جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ چلتا تو یوں جیسے مینز لینڈ میں جا رہا ہے۔ ہندوستانی سائیڈ کے گول پر پہنچ کر ایسا نشانہ بٹھاتا کہ گولی کی سب محنتیں بے کار اور گیند پوسٹ کے پار! گول!.... تماشائی شور مچاتے، بمبئی کے مسلمان نعرے لگاتے، بغلیں بجاتے۔ یہی نہیں اتری بھارت کے ہندوستانی بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ ہندوستانی ٹیم کا شنگارا سنگھ تھا....کیا کارنر لیتا تھا! جب اس نے گول کیا تو اس سے بھی زیادہ شور ہوا۔ اب دونوں طرف کے کھلاڑی فاول کھیلنے لگے۔ وہ آزادانہ ایک دوسرے کے ٹخنے گھٹنے توڑنے لگے.... لیکن میچ چلتا رہا۔پاکستانی ٹیم ہندوستانی پر بھاری تھی۔ ان میں سے کسی کے ساتھ لو لگانا میرے لئے ٹھیک بھی نہ تھا لیکن.... ہر وہ چیز انسان کو بھڑکاتی ہے جسے کرنے سے منع کیا گیا ہو۔ ہندو لڑکی کسی مسلمان سے شادی کرلیتی ہے یا مسلمان لڑکی سکھ کے ساتھ بھاگ جاتی ہے تو کیسا شور مچتا ہے! کوئی نہیں پوچھتا اس لڑکی سے کہ اسے کیا تکلیف تھی۔ چاہے وہ لڑکی خود ہی بعد میں کہے.... کیا ہندو، کیا مسلمان اور کیا سکھ سب ایک ہی سے کمینے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم میں ایک کھلاڑی اسٹینڈ بائی تھا جو سب سے زیادہ خوبصورت اور گبرو جوان تھا۔ اسے کھلا کیوں نہیں رہے تھے؟ کھیل کے بعد جب میں آٹو گراف لینے کے لئے کھلاڑیوں کے پا س گئی تو میں نے اپنی کاپی اس اسٹینڈ بائی کے سامنے بھی کردی۔ وہ بہت حیران ہوا۔ وہ تو کھیلا ہی نہ تھا۔ میں نے اس سے کہاتم کھیلوگے۔ ایک دن کھیلو گے۔ کوئی بیمار پڑ جائے گا، مگر.... تم کھیلوگے۔ سب کو مات دو گے، ٹیم کے کیپٹن بنو گے!اسٹینڈ بائی کا تو جیسے دل ہی پگھل کر باہر آگیا۔ نم آنکھوں سے اس نے میری طرف دیکھا جیسے میں جو کچھ کہہ رہی ہوں وہ الہام ہے! اور شاید وہ الہام تھا بھی، کیوں کہ وہ سب کچھ میں تھوڑا ہی کہہ رہی تھی۔ میرے اندر کی کوئی چیز تھی جو مجھے وہ سب کچھ کہنے کو مجبور کر رہی تھی۔ پھر میں نے اسے چائے کی دعوت دی، جو اس نے قبول کرلی اور میں اسے ساتھ لے کر لارڈ پہنچ گئی۔ جب میں اس کے ساتھ چل رہی تھی تو ایک سنسناہٹ تھی جو میرے پورے بدن میں دوڑ دوڑ جاتی تھی۔ کیسے ڈر خوشی بن جاتا ہے اور خوشی ڈر۔ میں نے چندیری کی جو ساڑھی پہن رکھی تھی، بہت پتلی تھی۔ مجھے شرم آرہی تھی اور شرم ہی شرم میں ایک مزہ بھی۔ کبھی کبھی مجھے یاد آتا تھا اور پھر بھول بھی جاتی تھی کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں کوئی نہیں تھا، میرے اور اس اسٹینڈ بائی کے سوا جس کا نام جے کشن تھا لیکن اسے سب پر نٹو کے نام سے پکارتے تھے۔ ہم دونوں لارڈ پہنچ گئے اور ایک سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ایک دوسرے کی قربت سے ہم دونوں شرابی ہوگئے تھے۔ ہم ساتھ لگ کے بیٹھے تھے کہ الگ ہٹ گئے اور پھر ساتھ لگ کر بیٹھ گئے۔ بدنوں میں سے ایک بو لپک رہی تھی.... سوندھی سوندھی، جیسے تنورمیں پڑی ہوئی روٹی سے اٹھتی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ ہم دونوں کے درمیان کچھ ہو جائے۔ پیار، جیسے پیار کوئی آ لا کارت ڈش ہوتی ہے۔ چائے آئی جسے پیتے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ چور نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہے.... میرے بدن کے اسی حصے کو جہاں اس بڈھے کی نظریں ٹکی تھیں۔ وہ بڈھا تھا؟ ماں نے کہا تھا.... مرد سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، کیا جوان کیا بڈھے؟ ہو سکتا تھا ہماری بات آگے بڑھ جاتی، لیکن پرنٹو نے سارا قلعہ ڈھیر کردیا۔ پہلے اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے دبا دیا۔ اس حرکت کو میں نے پیار کی اٹھکیلی سمجھا لیکن اس کے بعد وہ سب کی نظریں بچا کر اپنا ہاتھ میرے شریر کے اس حصے پر دوڑانے لگا، جہاں عورت مرد سے جدا ہو نے لگتی ہے۔ میرے تن بدن میں آگ سی لپک آئی۔ میری آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگیں.... نفرت کی، محبت کی۔ میرا چہرہ لال ہونے لگا۔ میں باتیں بھولنے لگی۔ میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا تو اس نے مایوس ہو کر رات کو بیک بے میں چلنے کی دعوت دی، جسے فورا مانتے ہوئے میں نے ایک طرح انکار کردیا۔ وہ مجھے، عورت کو بالکل غلط سمجھ گیا تھا، جو ڈھرے پہ تو آتی ہے مگر سیدھے نہیں۔ اس کی تو گالی بھی بے حیا مرد کی طرح سیدھی نہیں ہوتی۔ اس کا سب کچھ گول مول، ٹیڑھا میڑھا ہوتا ہے۔ روشنی سے وہ گھبراتی ہے، اندھیرے سے اسے ڈر لگتا ہے۔ آخر اندھیرا رہتا ہے نہ ڈر، کیوں کہ وہ ان آنکھوں سے پرے، ان روشنیوں سے پرے ایک ایسی دنیا میں ہوتی ہے جو سانسوں کی دنیا، یوگ کی دنیا ہوتی ہے، جسے آنکھوں کے بیچ کی تیسری آنکھ ہی گھور سکتی ہے۔گے لارڈ سے باہر نکلے تو میرے اور پرنٹو کے درمیان سوا تندرستی کے اور کوئی بات مشترک نہ رہی تھی۔ میرے کھسیائے ہونے سے وہ بھی کھسیا چکا تھا۔ میں نے سڑک پر جاتی ہوئی ایک ٹیکسی کو روکا۔ پرنٹونے بڑھ کر میرے لئے دروازہ کھولا اور میں لپک کر اندر بیٹھ گئی۔ بیک بے۔پرنٹو نے مجھے یاد دلایا۔ میں نے طوطے کی طرح رٹ دیا  بیک بے.... اور پھر ٹیکسی ڈرائیور کی طرف منہ موڑتے ہوئے بولی....ماہم۔ بیک بے نہیں؟  وہ بولا۔ نہیں  میں نے کرخت سی آواز میں جواب دیاماہم۔  آپ تو ابھی.... چلو، جہاں میں کہتی ہوں۔ ٹیکسی چلی تو پرنٹو نے میری طرف ہاتھ پھیلایا جو اتنا لمبا ہو گیا کہ محمد علی روڈ، بائیکلہ، پریل، دادر، ماہم، سیتلا دیوی، ٹیمپل روڈ تک میرا پیچھا کرتا رہا اور مجھے گدگداتا رہا۔ آخر میں گھر پہنچ گئی۔ اندر یادو بھیا ایک جھٹکے کے ساتھ بھابھی کے پاس سے اٹھے.... میں سمجھ گئی، کیوں کہ ماں کا کڑا حکم تھا کہ میرے سامنے وہ اکٹھے نہ بیٹھا کریں.... گھر میں جوان لڑکی ہے۔ میں نے لپک کر بندو کو جھولے میں سے اٹھایا اور اس سے کھیلنے لگی۔ بندو مجھے دیکھ کر مسکرائی۔ ایک پل کے لئے تو میں گھبرا گئی.... جیسے اسے سب کچھ معلوم تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بچوں کو سب پتہ ہوتا ہے، صرف وہ کہتے نہیں۔ گھر میں گووند چاچا بھی تھے جو پاپا کے ساتھ اسٹڈی میں بیٹھے تھے اور ہمیشہ کی طرح سے ماں کی ناک میں دم کئے ہوئے تھے۔ عجیب تھا دیور بھابھی کا رشتہ۔ جب ملتے تھے ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ لڑنے، جھگڑنے، گالی گلوچ کے سوا کوئی بات ہی نہ ہوتی۔ پاپا ان کی لڑائی میں کبھی دخل نہ دیتے تھے۔ وہ جانتے تھے نا کہ ایک روز کی بات ہو تو کوئی بولے بکے بھی، لیکن روز روز کا یہ جھگڑاکون نمٹائے گا؟ اور ویسے بھی سب کچھ ٹھیک ہی تو تھا۔ کیوں کہ اس ساری لے دے کے باوجود ماں ذرا بھی بیمار ہوتی تو ہمیشہ گووند ہی کو یاد کرتی اور بھی تو دیور تھے ماں کے، جن سے اس کا پائے لاگن اور جیتے رہوکے سوا کوئی رشتہ نہ تھا۔ وہ ماں کو تحفوں کی رشوت بھی دیتے تھے، لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ دینا تو ایک طرف گووند چچا تو ماں کو الٹا ٹھگتے ہی رہتے تھے لیکن اس پر بھی وہ اسے سب سے زیادہ سمجھتی تھی اور وہ لے کر الٹا ماں کویہ احساس دلاتے تھے جیسے اس کی سو پشتوں پر احسان کر رہے ہیں۔ کئی بار ماں نے کہا گووند اس لئے اچھا ہے کہ اس کے دل میں کچھ نہیں اور پاپا ہمیشہ یہی کہتے تھے دماغ میں بھی کچھ نہیں اور ماں اس بات پر لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتی اور جب وہ گووند چاچا سے اپنی دیورانی کے بارے میں پوچھتی۔ تم اجتیا کو کیوں نہیں لائے؟تو جواب یہی ملتا کیا کروں لا کر؟ تم سے اس کی چوٹی کھنچوانا ہے؟ جلی کٹی سنوانا ہے؟ ماں جواب میں گالیاں دیتی، گالیاں کھاتی اور چاچا کے چلے جانے کے بعد دھاڑیں مار مار کر روتی اورپھر وہی .... کہاں ہے گووند؟ اسے بلاو۔ میرا تو اس گھر میں وہی ہے۔ اپنے باپ کا کیا پوچھتی ہو؟ وہ تو ہیں بھولے مہیش، گوبر گنیش۔ ان کے تو کوئی بھی کپڑے اتروالے....  اور یہ میں نے ہر جگہ دیکھا ہے، ہر بیوی اپنے میاں کو بہت سیدھا، بہت بے وقوف سمجھتی ہے اور وہ چپ رہتا ہے۔ شاید اسی میں اس کا فائدہ ہے۔ اس دن گووند چاچا ڈائریکٹر جنرل شپنگ کے دفتر میں کام کرنے والے کسی مسٹر سولنکی کی بات کر رہے تھے اور اصرار کر رہے تھے میری بات آپ کو ماننا پڑے گی۔ تم بخس میں ہو نا۔ ماں کہہ رہی تھی  اس میں بھی کوئی سوارتھ ہو گا تمہارا۔ اس پر گووند چچا جل بھن گئے۔ انہوں نے چلاتے ہوئے کہا تم کیا سمجھتی ہو؟ کامنی تمہاری ہی بیٹی ہے، میری نہیں ہے۔ اب مجھے پتہ چلا کہ مسٹر سولنکی کے لڑکے کے ساتھ میرے رشتے کی بات چل رہی ہے اور اس کے بعد کسی کنڈم اسپنڈل کی طرح اوربھی دھاگے کھلنے لگے، جن کا مجھے آج تک پتہ نہ تھا۔ گووند چچا کے منہ میں جھاگ تھی اور وہ بک رہے تھے تو....تو نے اجیتا کے ساتھ میری شادی کردی۔ میں نے آج تک کبھی چوں چراں کی؟.... کہتی تھی، میرے مائیکے کی ہے، دور کے رشتے سے میرے ماما کی لڑکی ہے.... یہ بڑی بڑی آنکھیں۔ اب ان آنکھوں کو کہاں رکھوں؟ بولو....کہاں رکھوں؟ زندگی کیا آنکھوں سے بتاتے ہیں؟ وہی آنکھیں اب وہ مجھے دکھاتی ہے اور تو اور تجھے بھی دکھاتی ہے۔پہلی بار میں نے گووند چاچا کا بریک ڈاون دیکھا۔ میں سمجھتی تھی وہ آدرش آدمی ہیں اور اجیتا چاچی سے پیار کرتے ہیں۔ آج یہ رازکھلا کہ ان کے ہاں بچہ کیوں نہیں ہوتا۔ فیملی پلاننگ تو ایک نا م ہے۔ ماں نے کہا کامنی تمہاری بیٹی ہے اسی لئے تو نہیں چاہتی کہ اسے بھی کسی گڑھے میں پھینک دو۔ میرا خیال تھا کہ اس پر اور تو تو میں میں ہو گی اور گووند چاچا بائیں بازو کی پارٹی کی طرح واک آوٹ کر جائیں گے، لیکن وہ الٹا قسمیں کھانے لگے تمہاری سوگند بھابی۔ اس سے اچھا لڑکا تمہیں نہ ملے گا۔ وہ بڑودہ کی سنٹرل ریلوے کی ورک شاپ میں فورمین ہے۔ بڑی اچھی تنخواہ پاتاہے۔ میں سب کچھ سن رہی تھی اور اندر جھلا رہی تھی.... ہو نہ لڑکا اچھا ہے، تنخواہ اچھی ہے.... لیکن شکل کیسی ہے، عقل کیسی ہے، عمر کیا ہے؟ اس کے بارے میں کوئی کچھ کہتا ہی نہیں۔ فورمین بنتے بنتے برسوں لگ جاتے ہیں۔ یہ ہمارا دیس ہے۔ پچاس سال کا مرد بھی بیاہنے آئے تو یہاں کی بولی میں اسے لڑکا ہی کہتے ہیں۔ اس کی صحت کیسی ہے؟ کہیں انٹیلیکچول تو نہیں معلوم ہوتا؟ اسی دم مجھے پرنٹو کا خیال آیا جو اس وقت بیک پہ میرا انتظار کر رہا ہوگا.... اسٹینڈ بائی! جو زندگی بھر اسٹینڈ بائی ہی رہے گا۔ کبھی نہ کھیلے گا۔ اسے کھیلنا آتا ہی نہیں۔ اس میں صبر ہی نہیں۔ پھر مجھے اس غریب پر ترس آنے لگا۔ جی چاہا بھاگ کر اس کے پاس چلی جاوں۔ اسے تو میں نے دیکھا اور پسند بھی کیا تھا، لیکن اس فورمین کو جو بیک گراونڈ میں کہیں مسکرا رہا تھا.... پھر جیسے من کے اندھیرے میں مچھر بھنبھناتے ہیں....مس گپتا سے مسز سولنکی کہلائی تو کیسی لگوں گی....بکواس! گووند چاچا کہہ رہے تھیلڑکا تن کا اجلاہے، من کا اجلاہے اس کی آتما کتنی اچھی ہے، اس کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بچوں سے پیار کرتاہے۔ بچے اس پر جان دیتے ہیں، اس کے اردگرد منڈلاتے ہیں، ہی ہی، ہو ہو، ہاہا کرتے رہتے ہیں اور وہ بھی ان کے ساتھ غی غی، غو غو، غاں غاں.... بس.... میں اندر کے کسی سفر سے اتنا تھک چکی تھی کہ رات کو مجھے بھیڑیں گننے کی بھی ضرورت نہ پڑی۔ ایک سپاٹ، بے رنگ، بے خواب سی نیند آئی.... ایسی نیند جو لمبے رت جگوں کے بعد آتی ہے۔ دو ہی دن بعد وہ لڑکا ہمارے گھر پر موجود تھا۔ ارے! یہ سب اندازے کتنے غلط نکلے! .... وہ ہاکی ٹیم کے سب لڑکوں.... کیاکھیلنے والے اور کیا اسٹینڈ بائی.... سب سے زیادہ گبرو، زیادہ جوان تھا۔ اس نے صرف کسرت ہی نہیں کی تھی، آرام بھی کیا تھا۔ اس کا چہرہ اندر کی گرمی سے تمتمایا ہوا تھا۔ رنگ کندنی تھا.... میری طرح۔ مضبوط دہانہ، مضبوط دانتوں کی باڑھ.... جیسے بے شمار گنے چوسے ہوں، گاجر، مولیاں کھائی ہوں، شاید کچے شلغم بھی۔ وہ ایک طرف گھبرایا ہوا تھا اور دوسری طرف اپنی گھبراہٹ کو بہادری کی اوٹ میں چھپا رہا تھا۔ آتے ہی اس نے مجھے نمستے کی، میں نے بھی جواب میں نمستے کر ڈالی۔ پھر اس نے ماں کو پرنام کیا۔ جب وہ میری طرف نہ دیکھتا تھا تو میں اسے دیکھ لیتی تھی۔ یہ اچھا ہوا کہ کسی کو پتہ نہ چلا کہ میری ٹانگیں کپکپانے لگی ہیں اور دل دھڑام سے شریر کے اندر ہی کہیں نیچے گر گیا ہے۔ آج کل کی لڑکی ہونے کے ناطے مجھے ہسٹیریا کا ثبوت نہیں دینا تھا، اس لئے ڈٹی رہی۔ بیچ میں مجھے خیال آیا کہ بے کار کی بغاوت کی وجہ سے میں نے تو اپنے بال بھی نہیں بنائے تھے۔ اس کے ساتھ اس کی ماں بھی آئی تھی۔ وہ بچھی جا رہی تھی، جیسے بیٹوں کی شادی سے پہلے مائیں بچھتی ہیں۔ مجھے تو یوں لگا جیسے وہ لڑکا نہیں، اس کی ماں مر مٹی ہے اور جانے مجھ میں اپنے مستقبل کا کیا دیکھ رہی ہے؟ اس کی اپنی صحت بہت خراب تھی اور وہ اپنی کبھی کی خوبصورتی اور تندرستی کی باتیں کرکے اپنے بیٹے کے لئے مجھے مانگ رہی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اسے اپنی ماں پر بھروسہ نہیں.... وہ بھکارن کہہ رہی تھی۔ لڑکوں کی خوبصورتی کس نے دیکھی ہے؟ لڑکے سب خوبصورت ہوتے ہیں.... بس اچھے گھر کے ہوں، کماو ہوں.... اور وہ اپنی ماں کی طرف یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس کے ساتھ کوئی بہت بڑا ظلم کر رہی ہے۔ میری ماں کے کہنے پر وہ کچھ شرماتا ہوا میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور باتیں کرو کے حکم پر مجھ سے باتیں کرنے لگا۔  پہلے تو میں چپ رہی۔ پھر جب بولی تو صرف یہ ثابت ہوا کہ میں گونگی نہیں ہوں۔ سفید قمیص، سفید پتلون اور سفید ہی بوٹ پہنے وہ کرکٹ کا کھلاڑی معلوم ہو رہا تھا۔ وہ کیپٹن نہیں تو بیٹس مین ہوگا۔ نہیں بولر .... بولر، جو تھوڑا پیچھے ہٹ کر آگے آتا ہے اور بڑے زور کے سپن سے گیند کو پھینکتا ہے .... اور وکٹ صاف اڑجاتی ہے۔ ہاں بیٹس مین اچھا ہو تو چوکسی کے ساتھ گیند کو باونڈری سے بھی پرے پھینک دیتا ہے، نہیں تو خود ہی آوٹ! ماں کے اشارے پر میں نے اس سے پوچھا آپ چائے پئیں گے؟ جی؟ اس نے چونک کر کہا اور پھر جیسے میری بات کہیں دھرتی کے پورے کرے کا چکر کاٹ کر اس کے دما غ میں لوٹ آئی اور وہ بولا آپ پئیں گی؟ میں ہنس دی میں نہ پیوں تو کیا آپ نہیں پئیں گے؟ آپ پئیں گی تو میں بھی پی لوں گا۔ میں حیران ہوئی، کہ وہ بھی ایسا ہی تھا جیسے ماں کے سامنے میرے پاپا.... لیکن ایسا تو بہت بعد میں ہوتا ہے۔ وہ شروع میں ہی ایسا تھا۔ چائے بنانے کے لئے اٹھی تو سامنے آئینے پرمیر ی نظر گئی۔ وہ مجھے جاتے دیکھ رہا تھا۔ میں نے ساڑھی سے اپنے بدن کو چھپایا اور پھر اس بڈھے کے الفاظ یاد آگئے....آج کل یہاں چور آئے ہوئے ہیں.... دیکھنا کہیں پولیس ہی نہ پکڑ لے تمہیں.... بس کچھ ہی دن میں میں پکڑی گئی۔ میری شادی ہوگئی۔ میرے گھر کے لوگ یوں تو بڑے آزاد خیال ہیں، لیکن دیدی پر بٹھاتے ہوئے انہوں نے جیسے مجھے بوری میں ڈال رکھا تھا تاکہ میرے ہاتھ پاوں پر کسی کی نظر بھی نہ پڑے۔ میں پردہ پسند کرتی ہوں، لیکن صرف اتنا جس میں دکھائی بھی دے اورشرم بھی رہے۔ زندگی میں ایک بار ہی تو ہوتا ہے کہ وہ دبے پاوں آتا ہے اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس گھونگھٹ کو اٹھاتا ہے جسے بیچ میں سے ہٹائے بنا پرماتما بھی نہیں ملتا۔ شادی کے ہنگامے میں میں نے تو کچھ نہیں دیکھا کون آیا، کون گیا۔ بس چھوٹے سولنکی میرے من میں سمائے ہوئے تھے۔ میں نے جو بھی کپڑا، جو بھی زیور پہنا تھا، جو بھی افشاں چنی تھی، ان ہی کی نظروں سے دیکھ کر، جیسے میری اپنی نظریں ہی نہ رہی تھیں۔ میں سب سے بچنا، سب سے چھپنا چاہتی تھی تاکہ صرف ایک کے سامنے کھل سکوں، ایک پر اپنا آپ وار سکوں۔ جب برات آئی تو میری سہلیوں نے بہت کہا، بالکونی پر آجاو، برات دیکھ لو۔ لیکن میں نے ایک ہی نہ پکڑ لی۔ میں نے ایک روپ دیکھا تھا جس کے بعد کوئی دوسرا روپ دیکھنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ آخر میں نے سسرال کی چوکھٹ پر قدم رکھا۔ سب میرے سواگت کے لئے کھڑے تھے۔ گھر کی سب عورتیں، سب مرد.... بچوں کی ہنسی سنا ئی دے رہی تھیں اور وہ مجھے گھونگھٹ میں سے دھندلے دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ سب رسمیں ادا ہوئیں جیسی ہر شادی میں ہوتی ہیں۔ ٭٭٭

سوشلزم کیا ہے؟



''فاروق دلاور''
تعارف اور تاریخی مادیت پاکستان اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ دراصل عالمی سرمایہ داری نظام کے استحصال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ایک گھمبیر شکل ہے موجودہ بحران کا خاتمہ اب اصلاحات نہیں بلکہ انقلابات سے ممکن ہے۔پاکستان جیسے ملک میں رہنے والے محنت کشوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو نظریاتی طور پر مسلح کریں تاکہ وہ آنے والے حالات کا درست تجزیہ کر کے درست حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نظریات کے بغیر سیاسی کارکن کی مثال اس کشتی کی طرح ہے جو بحرے بیکاراہ میں موجوں کے جھونکے کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کرتی ہے۔ ایسے کارکن کسی بھی بڑی تحریک میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ڈگمگاتے رہتے ہیں۔ لیبر پارٹی پاکستان اور اس کی ہمدرد تنظیموں کے کارکنان کی نظریاتی تربیت کے بغیر پاکستان میں انقلاب اور تبدیلی کا خواب پورا نہیں کیا جاسکتا۔ مزدور جدوجہد اسی مقصد کے حصول کیلئے نظریاتی تعلیمی سلسلہ شروع کر رہا ہے۔ میدانِ عمل میں جدوجہد کرنے والے مزدور، کسان، طالب علم، خواتین اور نوجوان اس نظریاتی تعلیمی سلسلے سے فائدہ اٹھا کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں جسے کوئی نہ توڑ سکے۔تمام متحرک ساتھی اس نظریاتی بحث میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے سوشلزم کا نام نہ سنا ہو لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ حقیقی سوشلسٹ نظریات سے تو واقف نہیں ہوتے لیکن سوشلزم پر گھناونے الزامات ضرور لگاتے ہیں۔ کوئی اسے سابقہ سوویت یونین کا حوالہ دے کر آمرانہ جابرانہ نظام حکومت بنا کر پیش کرتا ہے جس میں عوام کو کسی قسم کی سیاسی و انفرادی آزادی حاصل نہیں ہوتی اور کوئی اسے بے مذہب لوگوں کا مذہب بنا کر پیش کرتا ہے حالانکہ حقیقی سوشلزم کا ان ساری باتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے برعکس اکثر لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشلزم سے مراود ایک ایسا نظام ہے جس میں سب برابر ہوتے اور کوئی امیر یا غریب نہیں ہوتا۔ یہ بالکل دو متضاد رائے ہیں۔ آئیے ذرا دیکھیں سوشلزم کیا ہے؟ سوشلزم ایک سماجی سائنس، اقتصادی نظام اور فلسفہ حیات کا نام ہے۔ سوشلزم ایک ایسی اقتصادی سائنس ہے جو پہلے تو یہ بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو سرمایہ دار طبقہ ہے وہ مزدور طبقہ کا استحصال کس طرح کرتا ہے یا یوں کہئے سوشلزم یہ بات سمجھاتا ہے کہ چند لوگ امیر سے امیر تر اور اکثریت غریب سے غریب تر کیوں ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ اقتصادی سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر اکثریت یعنی محنت کش اقتدار اور ذرائع پیداوار یعنی صنعت، زراعت، معدنی ذخائر، قدرتی دولت پر قبضہ کر کے پورے معاشرے کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کے تحت صنعتی اور زرعی پیداوار حاصل کریں تو نہ صرف معاشرے میں موجود طبقاتی تفریق یعنی امیرغریب کا فرق ختم ہو جائے گا بلکہ غربت بھی ختم ہو گی۔ عوام کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور ان کی مانگ یعنی ان کے مطالبات کا خاتمہ ہو گا جن میں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت کی سہولتیں، ٹرانسپورٹ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشلزم مانگ کا خاتمے کرنے والی اقتصادی سائنس کا نام ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ اقتصادی نظام یہ سب کچھ کیوں نہیں کر پاتا اور سوشلسٹ اقتصادی نظام یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب کیسے ہو جاتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ موجودہ نظام جسے ہم سرمایہ داری نظام کہتے ہیں اس نظام میں ذرائع پیداوار چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ ان سرمایہ داروں کو بورژوا طبقہ یا بورژوازی کہتے ہیں۔یہ سرمایہ دار اپنی صنعتوں میں جو مال تیار کرتے ہیں اس مال کو وہ بیچ کر صرف اور صرف منافع کمانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کی ضرورتیں پوری کرنا نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ہم لاہور شیخورہ روڈ پر واقع گلاس بنانے والی ایک فیکٹری کے حوالے سے دے سکتے ہیں۔ ٹویوناسک نامی ایک فیکٹری میں ایک عرصہ تک ہوتا تھا کہ جب جگ اور گلاس جب تیار ہو جاوتے تو انہیں دوبارہ بھٹی میں ڈال دیا جاتا کیونکہ اس فیکٹری کے مالک نہیں چاہتے تھے کہ یہ گلاس اور جگ مارکیٹ میں اتنی بڑی تعداد میں جائیں کیونکہ اس طرح قیمت کم ہوجاتی ہے اور ان کے منافع میں کمی آجاتی ہے۔ حالانکہ مارکیٹ میں جگ اور گلاس کی مانگ موجود تھی۔ اب ذرا سوچیں اگر یہی فیکٹری مزدوروں کے کنٹرول میں ہوتی اور ملک میں سوشلسٹ نظام ہوتا تو اس فیکٹری کو چلانے والے مزدور بیٹھ کر پہلے یہ دیکھتے کہ مارکیٹ میں کتنے جگ اور گلاس چاہیں پھر وہ اپنی فیکٹری کی پیداوار کی صلاحیت دیکھتے اور وہ عوام کی ضرورت کے مطابق وہ جگ اور گلاس بنا کر مارکیٹ میں بھیجتے اور یوں وہ نا صرف عوام کی مانگ کا خاتمہ ہوتا بلکہ فیکٹری کے مزدور (جنہیں سوشلسٹ پرولتاریہ کہتے ہیں) کی محنت کا پھل بھی انہیں ملتا۔اس مثال سے ہم سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری یعنی موجودہ نظام میں ذرائع پیداوار چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان ذرائع پیداوار سے کتنی پیداوار حاصل کرنی ہے اور ان کے پیش نظر پیداوار کا مقصد صرف اور صرف منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ نظام منافع کا اور اقلیت (یعنی سرماہ دارانہ اقلیت) کانظام ہے جبکہ سوشلسٹ نظام معیشت میں ذرائع پیداوار اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں۔ ان ذرائع پیداوار سے کتنی پیداوار حاصل کرنی ہے اس کا فیصلہ مزدوروں کی منتخب کمیٹی کرتی ہے جسے سوشلسٹ سوویت کہتے ہیں۔ سوویت جمہوری انداز میں یہ منصوبہ بندی کرتی ہے کہ معاشرے میں کس چیز کی کتنی مانگ ہے اور اسے کس طرح پورا کرنا ہے۔ اس نظام میں ذرائع پیداوار سے حاصل ہونے والی پیداوار کا مقصد منافع نہیں بلکہ عوام کی ضرورتوں کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے چونکہ اس نظام میں اکثریت (یعنی محنت کش طبقہ) ذرایع پیداوار کو پرولتاریہ کی قیادت میں اپنے کنٹرول میں لے کر ضرورتوں اور مانگ کا خاتمہ منافع کے لیے نہیں کرتے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سوشلسٹ نظام اکثریت کا نظام ہے جس میں پیداوار کا مقصد منافع نہیں بلکہ مانگ کا خاتمہ ہوتا ہے۔ مگر اصل بات تو یہ ہے کہ سوشلسٹ اقتصادی نظام جس میں ہم نے ابھی دیکھا کہ اتنی زیادہ خوبیاں ہیں۔ کیا وہ لوگو بھی کیا جاسکتا ہے یہ ہے وہ اہم سوال جو فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ سوشلزم اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ہم یعنی محنت کش، مظلوم اور محکوم مزدور طبقہ یعنی پرولتاریہ کی قیادت میں یہ کام کر سکتے ہیں۔ سوشلزم ہمیں بتاتا ہے کہ جس طرح سائنس کی دنیا میں سائنس کے اپنے اصول ہوتے ہیں اس طرح سماج کے اندر بھی سماج کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ سائنس میں ہم دیکھتے ہیں کہ سائنسدان مادی دنیا کے فارمولے اور قوانین دریافت کرنے کے بعد جب ان پر عملدرآمد کرتے ہیں تو انسان کے لیے آسانیاں اور آسائشیں پیدا کر دیتے۔ اسی طرح سوشلسٹ سماج کے قوانین دریافت کر کے اور ان پر عملدرآمد کر کے سماج کو بدل سکتے ہیں اور اس سماج میں انسان کے لیے آسانیاں اور آسائشیں پیدا کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سوشلزم کو ہم سماج کی سائنس اور سوشلسٹوں کو سماجی سائنسدان کہتے ہیں۔ ان سماجی سائنس کو باقاعدہ سائنس بنانے والا پہلا شخص کارل مارکس تھا۔ کارل مارکس نے اپنے دوست اینگلز کی مدد سے سوشلسٹ اقتصادی سائنس اور سماج کو بدلنے کے لیے قوانین کو سب سے پہلے پچھلی صدی کے درمیان میں پیش کیا اور پھر اس صدی کی دوسری دہائی میں روس کے اندر 1917میں وہاں مارکسٹ پارٹی نے (جو اس وقت RSDLP کے نام سے کام کرتی تھی نے لینن کی قیادت میں مزدوروں اور کسانوںکی حمایت سے وہاں پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور دنیا میں پہلی مزدور سوشلسٹ ریاست کی بنیاد رکھ دی اور یہ ثابت کیا کہ مارکس اور اینگلز نے جو سائنسی نظریات پیش کئے وہ خیالی نہیں بلکہ قابل عمل باتیںہیں۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ مارکس سے پہلے بھی ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں، جنہوں نے ایک نئے نظام کی ضرورت پر زدور دیا اور اس کے خدوخال پیش کیے۔ یہ لوگ بھی سوشلسٹ کہلاتے تھے۔ ان میں بابیوف اور رابرٹ اوون اہم نام ہیں۔ مگر مارکس سے پہلے جتنے بھی سوشلسٹ آئے وہ خیالی سوشلسٹ تھے جبکہ مارکس سائنسی سوشلسٹ تھا۔ ہم جس سوشلزم کا اب تک ذکر کررہے ہیں وہ درحقیقت سائنسی سوشلزم ہے۔ خیالی اور سائنسی سوشلزم میں فرق یہ ہے کہ سائنسی سوشلزم کی بنیاد حقائق پر ہے جسے کوئی بھی دیکھ اور پرکھ سکتا ہے اور جنہیں ثابت کیا جاسکتا ہے جبکہ خیالی سوشلسٹ اپنے ذہن اور دماغ سے باہر نہیں نکلتے اور اوپری سطح سے معاشرے کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ تھوڑی سی طویل بحث ہے ہم مارکسی سوشلزم کو سائنسی سوشلزم کیوں کہتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تین ستونوںکا مطالعہ کریں جن کے سارے سوشلزم یعنی مارکسزم کی عمارت کھڑی ہے اور وہ تین ستون ہیں۔ (1) تاریخ مادیت (2) جدلیاتی مادیت (3) مارکسی معیشت تاریخی مادیت موجودہ قسط میں ہم سوشلزم کے پہلے ستون یعنی تاریخی مادیت کے متعلق بات کریں گے۔آئیے دیکھتے ہیں تاریخی مادیت ہمیں کیا بتاتی ہے۔ جنگل اور غاروں میں زندگی گزارنے سے لے کر موجودہ کمپیوٹر کے عہد تک انسان نے تاریخ کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ غاروں کی زندگی سے موجودہ عہد تک انسان نے ترقی کی ہے بے شمار منزلیں طے کی ہیں، تاریخ کے اس ارتقاکے بارے میں ہمیں دو نظریات ملتے ہیں، ایک وہ نظریہ جو مارکس نے دیا جسے مادی تاریخ کہتے ہیں اور ایک وہ نظریہ جو سرمایہ داروں نے ہمیں دیا اور چونکہ موجودہ سماج سرمایہ دارانہ سماج ہے لہذا ہمیں عام طور پر مادی تاریخ سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں ملتا اور تاریخ کو سرمایہ داروں کے نقطہ نظر سے پڑھایا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تاریخ کا دھارا چند بڑے لیڈر ہی بدل سکتے ہیں۔ یہ عام بندے کے بس کی بات نہیں جبکہ مارکس نے یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ تاریخ بدلنے کا فریضہ طبقہ انجام دیتا ہے۔ اس کی سچائی کو ہم پرکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاریخ کا ارتقاء تاریخ کے لفظی معنی تو وقت کی نشان دہی کے ہیں لیکن اصطلاحا اس کا مطلب وقت بتا کر متعین کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ماضی تاریخ کا ہے اور تاریخ مختلف ادوار میں ہونے والے واقعات کی کہانی بیان کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی عمر تقریبا 5ارب اور دھرتی ماتا کے سینے پر نسل انسانی کا ظہور ماہ سال پہلے کی بات ہے۔ ہمارے آبا اجداد ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ شکل و صورت میں بنے، بندروں اور لنگوروںکی طرح درختوں پر جھولنے سے لے کر کمپیوٹر اور روبوٹ کے موجودہ دور تک ہم نے فطرت کی تسخیر میں ان گنت منزلیں طے کی ہیں۔ وقت کی ڈوری سے بندھی ہوئی یہ لمحہ بہ لمحہ تبدیلی ترقی ارتقاکہلاتی ہے چنانچہ جب ہم تاریخ کے ارتقاکا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر وقت کی وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی وہ تمام تصویریں ہوتی ہیں جسے فطرت کے رنگوں سے انسانی دست محنت نے مختلف ادوار میں تخلیق کیا۔ انسانی معاشرے کے مذکورہ بالا ارتقاکی تہہ میں مادی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔ اسی لیے تاریخی ارتقاکو تاریخی مادیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ تاریخ جو ہمیں پڑھائی جاتی ہے سکولوں، کالجوںاور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کا ناقدانہ جائزہ لیں تو ان میں بادشاہوں، جرنیلوں، منصب داروں، امرائ، وابستگان، دربار مصاحین اور حکمران کی ولادت، وفات، ثقافت، جنگوں، فتحوں، شکستوں اور پھر سیلاب، زلزلہ، طوفان وبائی امراض اور عمارت سازی کے واقعات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ حادثات و واقعات کا لامتناہی سلسلہ ہے جس کی نہ تو کوئی سائنسی توجیہہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تاریخ جنگ و جدل کے پہلو کو نمایاں کر کے پیش کرتی ہے جس نے جتنا زیادہ انسانی خون بہایا وہ اتنا ہی بڑا سورما ٹھہرا۔ یہ حکمران طبقات کی ہوس ملک گیری کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کو قوم اور ملک کی جنگیں قرار دیتے ہیں اور یوں قوموں اور ملکوں کے درمیان نفرتوں، عداوتوں، دشمنیوں اور تعصبات کو زندہ رکھتے ہیں۔ آج بھی تاریخ کے صفحات میں انگلستان اور فرانس کی جنگیں، ترکوں اور بلقانی ریاستوں کی جنگیں، صلیبی جنگیں، یورپ اور نوآبادیاتی ممالک کی جنگیں محفوظ ہیں۔ تاریخ کا یہ سرمایہ مختلف ملکوں میں بسنے والے غریب عوام کو خواہ مخواہ ایک دوسرے کا دشمن بنارکھتا ہے۔ ہر ملک اور قوم کے مورخوں نے تاریخ لکھتے وقت اپنی قوم ملک کی شان و شوکت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ تاریخ کا یہ پہلو عوام کو شاندار ماضی پر فخر کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر بعض لوگ احیاکی تحریکیں شروع کر دیتے ہیں۔یہ لوگ حال کی جنگ کو ماضی کے زنگ آلودہ ہتھیاروں سے لڑنا چاہتے ہیں اور تاریخ ہی وہ میوزیم ہے جہاں زنگ آلودہ ہتھیاروں اور فرسودہ نظریات کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ روایتی تاریخ سے حکمران طبقات ایک اور اہم مقصد بھی حاصل کرتے ہیں چونکہ اس تاریخ میں اکثریت یعنی محنت کش عوام کا کہیں ذکر نہیں ہوتا اس لیے عوام اپنی قوت و طاقت کے احساس سے ناآشنا رہتے ہیں ان میں خود اعتمادی نہیں آئی۔ قوت و طاقت کے احساس سے عاری عوام حکمران طبقے کے لیے چیلنج نہیں بن سکتے اور یہی بات حکمران طبقہ چاہتا ہے۔ یہ تاریخ افراد کے گرد گھومتی ہے لیکن بڑی ہی چالاکی اور چابکدستی سے افراد کی تاریخ کو پورے معاشرے کی تاریخ بنادیا جاتا ہے۔ مسلمان حکمران خاندانوں کی تاریخ کو مسلم معاشرے کی تاریخ کہہ کر پڑھایا جاتا ہے حالانکہ جب بادشاہ ظل سبحانی کی سواری آتی تھی تو اس معاشرے کے کئی افراد صرف اس لیے قدموں تلے کچل کر مر جایا کرتے تھے کہ وہ ان پیسوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو بادشاہ رعایا پر نچھاور کیا کرتے تھے۔ یہ تاریخ تاج محل کو شاہجہاں کا کارنامہ بتاتی ہے۔ حالانکہ اس نے تاج محل کی تعمیر میں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ ان لاکھوں دستکاروں، مزدوروں اور کاریگروں پر تاریخ کے دروازے بند ہیں جنہوں نے اپنی ہنر مندی اور مہارت سے تاج محل، اہرام، مصر اور دوسرے عجائبات علم کو تخلیق کیا۔ اس تاریخ میں معاشرے کی اکثریت محض تاوبع محمل بے ہودہ اور اقلیت کی آلہ کار نظر آتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یک طرفہ اور گمراہ کن بھی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ واقعی کوڑے کا ایسا ڈھیر ہے جس میں کوئی کارآمد چیز نہیں ہے یا یہ ممکن ہے کہ حالات و واقعات کے اس انبار کی چھان بین کر کے ان بنیادی اصولوں کا پتہ لیا جائے جو ان حالات و واقعات کو عمل میں لانے کا باعث بنے۔ تاریخ کی سائنس انسانی سماج کا ارتقاجن اصولوں اور قوانین کے تحت ہوتا ہے انہیں تاریخ کی سائنس کہتے ہیں۔ تاریخی مادیت بھی انہیں اصولوں اور قوانین کے مطالعے کا نام ہے۔ ان قوانین کی دریافت انسانی تاریخ کے گہرے مطالعے اور تحقیق کے بعد ممکن ہو سکی۔ طبیعات، حیاتیات، کیمیا اور دوسری سائنسوں کے قوانین کی طرح انسانی تاریخ کے قوانین بھی حقیقی ہیں۔ اہم تاریخی تبدیلیاں ہر دور اور ہر جگہ ان قوانین کی پابند رہی ہیں۔ یہ اصول و قوانین نوع انسانی کا انمول سرمایہ ہیں۔ انہیں انسانی سماج کی بہتری کے لیے اسی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے جس طرح دوسری سائنسوں کے قوانین نت نئی ایجادات کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے ہم نہ صرف یہ بتاسکتے ہیں کہ تاریخ کے مخصوص دور میں مخصوص قسم کے واقعات ہی کیوں رونما ہوئے بلکہ یہ بھی کہ آنے والے کل میں کیا ہو گا اور کس طرح ناپسندیدہ اور آج واقعات کو قوع پذیر پر ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ طبقے اور طبقاتی کشمکش ایسے افراد جو ایک ہی طریقے سے روزی کماتے ہیں۔ ایک ہی طبقے کے افراد کہلاتے ہیں مثلا سرمایہ داری نظام میں تمام سرمایہ داروں کا روزی کمانے کا طریقہ یکساں ہے۔ وہ ذرائع پیداوار کے مالک ہوتے ہیں یعنی فیکٹریاں، بینک اور کمپنیاں وغیرہ ان کے اپنے قبضے میں ہوتی ہیں جہاں مزدور، ملازم کام کرتے ہیں اور مالک سے طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ تمام سرمایہ داروں کا طبقہ ایک ہی ہوا کیونکہ ذرائع پیداوار ملکیت کی وجہ سے ان کا طریقہ یکساں ہے اسی طرح تمام مزدور ملازم وغیرہ ایک ہی طبقے کے افراد ہوتے ہیں کیونکہ سبھی افراد اپنی محنت بیچ کر روزی کماتے ہیں اول الذکر کہ بورژوا طبقہ جبکہ دوسرے کو پرولتاری طبقہ یا پرولتاریہ کہا جاتا ہے۔ تمام سرمایہ داروں کا طبقاتی مفاد ایک ہی ہوتا ہے کیونکہ سبھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار ملے۔ کم سے کم مزدور ملازم رکھے جائیں اور یہ زیادہ سے زیادہ کام کریں۔ انہیں کم سے کم تنخوادہ دی جائے تاکہ منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ ہو۔ دوسری طرف پرولتاریہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ تنخواہ میں اضافہ ہو، بونس زیادہ ملے چھٹیوں کی تعداد بڑھے، اوقات کار میں کمی ہو۔ تعلیم، صحت اور رہائش وغیرہ کی سہولتیں ہوں۔ غور کریں تو یہ تمام خواہشات سرمایہ دار کی خواہشات کے برعکس ہیں۔ اسے ہم یوں کہتے ہیں کہ دونوں طبقات کا مفاد الگ الگ ہے۔ طبقاتی مفادات میں تضاد کی بدولت ان کے درمیان طبقاتی کشمکش جنم لیتی ہے جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک خود طبقے ختم نہ ہو جائیں۔ معاشرے میں طبقاتی کشمکش کا اظہار ہر سطح پر ہوتا رہتا ہے جو پھیل کر بڑی بڑی لڑائیوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ طبقوں کے درمیان یہ تنا اور کھینچا تانی تاریخ کے صفحات پر بغاوتوں، انقلاب اور آزادی کی تحریکوں کے نام سے درج ہوتا ہے۔ طبقاتی کشمکش کا یہ اصول قدیم کمیونسٹ سماج کو چھوڑ کر انسانی تاریخ کے ہر دور میں کارفرما نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری نظام سے پہلے جاگیرداری نظام میں یہ کشمکش جاگیردار اور مزارعے کے درمیان تھی۔ دور غلامی میں یہ تضاد آقا اور غلام کے مابین تھا۔ قصہ کوتاہ یہ کہ اس تضاد نے ان گنت جنگوں، بغاوتوں اور انقلابات کو جنم دیا ہے چنانچہ ہر تاریخی واقعات کو اس کشمکش کی تفصیل میں جائے بغیر حالات و واقعات کے گورکھ دھندے کو سلجھایا نہیں جاسکتا۔ سماج کی مادی زندگی اور تاریخ ہم نے دیکھا کہ طبقاتی کشمکش روپ بدل بدل کر تاریخ کا حصہ بنتی رہی، سوال یہ ہے کہ آقا اور غلام کس طرح جاگیردار اور مزارعے بن گئے یا پھر جاگیردار اور مزارعے کیسے سرمایہ دار اور مزدور کی شکل میں آگئے۔ اس بنیادی سوال کا جواب ہمیں سماج کی مادی زندگی کے تجزئیے سے حاصل ہوتا ہے۔ روایتی مورخ اس ضمن میں فطرت اور آبادی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو آیئے سب سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ان کے دعوی میں کتنا وزن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سماج کی مادی زندگی میں سب سے پہلا نمبر فطرت کا ہے۔ وہ جغرافیائی ماحول جس میں سماج نشوونما پارہا ہے سماج کی تشکیل اور ہیئت ترکیبی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ جغرافیائی ماحول کی تبدیلی سماج کی اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ جغرافیائی تبدیلیاں کا عمل بہت سست روی سے ہوتا جبکہ تاریخ کا علم بتاتا ہے کہ یورپ میں صرف 3ہزار سال کے عرصے میں 3مختلف سماجی نظام کامیابی سے منسوخ کر دیئے گئے۔ جغرافیائی ماحول میں تو قابل ذکر تبدیلیوں کے لیے لاکھوں سال کا عرصہ درکار ہے۔ سماج کی مادی زندگی کا دوسرا اہم پہلو سماج کی مجموعی آبادی ہے۔ آبادی کا کم یا زیادہ ہونا مادی حالات کے تعین میں کردار ادا کر سکتا ہے لیکن یہ چیز بھی مشاہدے کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کیونکہ اگر گنجان آبادی ترقی کا عنصر بن سکتی ہے تو چین، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے۔ تو آخر وہ کون سی قوت ہے جو سماج کو ایک نظام میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی خواہش زندہ رہنا ہے اس بنیادی جبلی تقاضے کی تکمیل کے لیے اسے مادی وسائل مثلا غذا، کپڑا، جوتا، مکان اور ایندھن وغیرہ کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں فطرت میں تیار شدہ حالت میں نہیں ملتیں بلکہ فطرت سے خام مال لے کر انسان اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ساری چیزیں تیار کرنے کے لیے انسانوں کے پاس آلات پیداوار اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ عوام جو اپنی محنت، تجربے اور مہارت سے آلات پیداوار کو استعمال کر کے مادی وسائل پیدا کرتے ہیں، مجموعی طور پر سماج کی پیداواری قوتیں کہلاتے ہیں۔ پیداواری قوتیں ایک طرف تو انسان اور فطرت کے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں اور دوسری طرف پیداواری عمل میں انسانوں کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ مارکس کا قول پیداواری عمل کے دوران انسان نہ صرف فطرت پر بلکہ ایک دوسرے پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ وہ امداد باہمی اور مشاغل کے باہمی تبادلے سے اشیاپیدا کرتے ہیں۔ دولت پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مخصوص تعلقات اور روابط قائم کرتے ہیں اپنے سماجی تعلقات اور روابط کے اندر فطرت پر ان کا عمل ہوتا ہے۔ یعنی دولت پیدا ہوتی ہے۔ ہم اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو سماج کو ایک نظام سے دوسرے میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہے۔ اس ضمن میں ہم نے سماج کے مادی حالات کا ذکر کیا تھا۔ مادی حالات میں سر فہرست جغرافیائی ماحول اور آبادی کا زیادہ یا کم ہونا آتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ نہ تو جغرافیائی ماحول اور نہ ہی آبادی کی کمی بیشی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے پھر فیصلہ کن عنصر کی تلاش میں چلاتے چلتے ہم پیداواری قوتوں تک پہنچے تھے اور پیداواری قوتوں سے ہماری مراد آلات پیداوار اور وہ عوامل تھے جو ان آلات کو اپنی محنت اور مہارت سے استعمال کر کے وسائل زندگی پیدا کرتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا تھا کہ وسائل زندگی پیدا کرنے میں انسان نہ صرف فطرت بلکہ ایک دوسرے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے پر اثر اندازی کو ہم تعلقاتِ پیداوار کہتے ہیں۔ تعلقات پیداوار انسان باہمی تعاون اور میل جول کے ذریعے چیزیں بناتے ہیں۔ کوئی بھی چیز انفرادی طور پر نہیں کی جاسکتی بلکہ تقریبا ہر مرحلے پر دوسرے افراد کی مدد اور تعاون درکار ہوتا ہے اور تعاون کیسا ہو گا یا دوسرے لفظوں میں پیداوار کی شکل کیا ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ چیزیں کس طریقے سے پیدا کی جارہی ہیں اور کون سے آلات چیزوں کی تیاری میں استعمال ہورہے ہیں۔ یعنی پیداواری قوتوں کی حالت اور نوعیت کیا ہو گی کیونکہ پیداواری قوتیں ہی تعلقات پیداوار کرتی ہیں جس طرح کی پیداواری قوتیں ہوں گی۔ تعلقات پیداوار کا ویسا ہی ہونا لازم ہے۔ تاریخ میں آج تک پانچ قسم کے تعلقات پیداوار سامنے آئے ہیں۔ -1 قدیم پنچائتی یا قدیم کمیونسٹ -2 آقا۔ غلام -3 جاگیردار، مزارع -4 سرمایہ دار۔ مزدور -5 اشتراکی۔ سوشلسٹ غورکریں تو یہ بات واضح ہو جانے گی کہ پوری انقلابی تاریخ تعلقات پیداوار کی ہی تشریح و تفسیر ہے اس لیے کوئی بھی تاریخی واقعہ اس وقت تک نہیں سمجھ آسکتا جب تک اس کا رشتہ تعلقات پیداوار سے جوڑ نہ لیا جائے اور یہ تو ہم جان ہی چکے ہیں کہ ان تعلقات کو پیداواری قوتیں کنٹرول کرتی ہیں۔ پیداواری قوتیں کبھی لمبے عرصے کے لیے ایک ہی نقطے پر نہیں ٹھہرتیں بلکہ تبدیلی اور نشوونما کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ آئے دن کی نت نئی ایجادات اور تکنیکی پیش رفت پیداواری قوتوں کی حالت کی نوعیت کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب پیداواری قوتیں بدلتی ہیں تو لامحالہ آلات پیداوار کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑتا کیونکہ بدلی ہوئی پیداواری قوتوں کے تقاضے ہوتے ہیں کہ ذرائع پیداوار کی مخصوص نوعیت و طریقہ عمل میں جتے ہوئے لوگوں کو نئی صورت کے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور کر دیا جائے۔ تعلقات پیداوار کی نشوونما پیداواری قوتوں کی نشوونما پر منحصر ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ تعلقات پیداواری قوتوں پر اثر انداز ہی نہ ہوتے ہوں سچ تو یہ ہے کہ تعلقات پیداوار یا تو پیداری قوتوں کی نشوونما کو تیز کرتے ہیں یا ان میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ اگر پیداواری قوتیں تو ترقی کر جائیں مگر تعلقات پرانی حالت پر ہی ٹھہرے رہیں تو سماج میں بدامنی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ انتشار اور بدامنی اس حد تک موجود رہتی ہے جب تک تعلقات پیداوار پیداواری قوتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو جائیں۔ تاریخ میں ہمیں جتنی بھی جنگیں، بغاوتیں وغیرہ نظر آتی ہیں وہ دراصل تعلقات کو ہی نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوششوں کے عمل کااظہار ہیں۔ سرمایہ داری نظام میں بار بار آنے والے بحران کے پیچھے تعلقات پیداوار کی یہی ناموزینت کار فرما ہوتی ہے۔ ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت اور پیداوار کی نوعیت میں کھلی ٹکر ہے۔ پیداوای قوتوں کی راہ میں تعلقات پیداوار رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اس طرح سے تبدیلی کیا جائے کہ یہ پیداواری قوتوں کی ترقی کی راہ میں مزاحم نہ ہوں بلکہ ان کی نشوونما کو مزید تیز کریں، یہیں سے ہمیں سماجی انقلاب کی معاشی بنیادیں فراہم ہوتی ہیں جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ موجودہ تعلقات پیداوات کو نیست و نابود کر کے ایسے تعلقات پیداوار قائم کیے جائیں جو پیداواری قوتوں کی حالت و نوعیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تاریخ کے ادوار سرمایہ دار مورخوں نے انسانی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یورپی تاریخ نگار اسے تین حصوں میں بانٹتے ہیں یعنی قدیم دور، وسطی دور اور جدید دور، جبکہ برصغیر کی تاریخ کو مورخین نے مذہبی اختلافات کی بنیاد پر رقم کیا ہے یعنی ہندوں کی تاریخ، مسلمانوں کی تاریخ اور انگریزوں کی تاریخ۔ تاریخ انسانی کی یہ تقسیم غیر سائنسی اور تعصب پر مبنی ہونے کیساتھ ساتھ گمراہ کن بھی ہے کیونکہ اس نظر سے تاریخ کو پرکھا جائے تو وہ واقعات کا ایک انبار نظر آئے گا جس سے لاکھ کوشش کے باوجود کوئی اصول کوئی نتیجہ یا ارتقااور تبدیلی کا کوئی حتمی سبب اخذ نہیں کیا جاسکتا، تاریخ کا یہ نقطہ نظر ان غیر حقیقی اور فرسودہ نظریات کو پروان چڑھانے اور فروغ دیئے رکھنے کا باعث بنتا ہے جو معاشرے کی سائنسی نہج پر ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور جن کے مطابق تاریخ کے رونما ہونے والے واقعات کسی مافوق الفطرت ہستی کے اشارہ ابرو کے محتاج ہیں۔ آسمانوں کی وسعتوں میں گم یہ ہستی ہر حادثے ہر واقع اور ہر تبدیلی کو روبہ عمل لارہی ہے اور تاریخ محض ان خدائی منصوبوں کی تکمیل کا دوسرا نام ہے۔ اس کے برعکس اگر تاریخ کا سائنسی تجزیہ کیا جائے تو بظاہر الگ تھلگ اور ایک دوسرے سے لا تعلق نظر آنے والے حالات و واقعات باطن میں ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں نظر آتے ہیں اور یہ زنجیر ہے پیداواری قوتوں اور تعلقات پیداوار کی مخصوص حالت و نوعیت کی زنجیر۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ان دیکھی زنجیر کے فہم و ادراک کے بغیر اور اس کی تشریح و تفسیر کئے بغیر کسی بھی تاریخی واقعہ کی حقیقی علت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ یہ صرف اور صرف سائنسی اپروچ ہی ہے جو حادثات و واقعات کی پیچیدہ گتھیاں سلجھا دیتی ہے اور تمام تاریخی واقعات کا باہمی رابطہ و تعلق واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقت کے انکشاف سے جہالت و گمراہی کی آلائشیں دور ہو جاتی ہیں۔ بے یقینی کے سائے مٹ جاتے ہیں اور ابہام کی دھند چھٹ جاتی ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں تاریخی واقعات کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں ان کی علت اور سبب متعین کرنے کے لیے کسی ایشور، کسی اوتار، کسی بھگوان یا کسی رام کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی شعور کو گمراہ کرنے والے تمام فرسودہ اور حقیقی نظریات اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ سائنسی اپروچ پوری انسانی تاریخ کو تعلقات پیداوار کی طرح مندرجہ ذیل پانچ ادوار میں تقسیم کرتی ہے۔ -1 قدیم پنچائتی دور -2 دورِ غلامی -3 دور جاگیردار -4 دور سرمایہ داری -5 اشتراکی دور قدیم پنچائتی نظام انسانی تہذیب کے آغاز کی نشانی ہے۔ اس وقت انسانوں کو اپنی بقاکے لیے مل جل کر کام کرنا پڑتا تھا۔ جنگلی پھل جمع کرنے، مچھلیاں پکڑنے، شکار کرنے اور رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے لیے وہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کے محتاج تھے۔اگر وہ مشترکہ طور پر کام نہ کرتے تو بھوک سے مر جاتے یا پھر فطرت کی دیگر قوتیں جن مین جنگلی درندے اور ہمسایہ قبائل بھی شامل تھے انہیں چیر پھاڑ کر کھا جاتے۔ اپنی بقاکے لیے کی جانے والی اس مشترکہ محنت نے ذرائع پیداوار اور خود پیداواری کی مشترکہ ملکیت کو جنم دیا۔ اس دور میں ہمیں ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت کا کوئی تصورنہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سماج میں نہ تو طبقے ہیں اور نہ ہی معاشی لوٹ مار۔ اسی خصوصیت کی بناپر اس سماج کو قدیم کمیونسٹ سماج بھی کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ آلات پیداوار کی ترقی نے قدیم کمیونسٹ سماج کے اندر ایک خاموش انقلاب کو جنم دیا۔ پتھر کے آالات کی جگہ لوہے کے آلات استعمال ہونے لگے۔ جنگلی جانوروں کے شکار کے ساتھ ساتھ گلہ بانی، جوتنے، بونے اور انفرادی دست کاری کا بھی رواج شروع ہو گیا۔ عمل پیداواور میں کام کی تقسیم کا دور آیا اور یہ امکان پیدا ہوا کہ مختلف افراد کے درمیان مصنوعات کا تبادلہ ہو۔ چند لوگوں کے ہاتھ میں دولت جمع ہو۔ ذرائع پیداوار چند لوگوں کے قبضے میں آجائیں اور یہ چند لوگ اکثریت کو ذاتی ملکیت کے ذور پر تابع کر کے اپنا غلام بنالیں۔ یہ ہے دور غلامی جس سے سماج کے تمام ارکان کی مشترکہ اور آزاد محنت کی بجائے غلاموں کی جبری محنت کا رواج ہوا۔ محنت نہ کرنے والے مگر ذرائع پیداواور کے مالک مٹھی بھر لوگ غلاموں کے بھی مالک ہیں۔ وہ انہیں خرید سکتے ہیں۔ بیچ سکتے ہیں۔ قتل کر سکتے ہیں گویا وہ غلام کوئی جانور ہیں۔ مختصر یہ کہ آقا اور غلام کی یہ کہانی لوٹنے والے اور لٹے جانے والے طبقوں کی شدید طبقاتی کشمکش کی کہانی ہے۔ عہد جاگیرداری میں جاگیردار ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے مگر ان غلاموں کا بھی پورے طور پر مالک ہوتا جو پیداواری عمل میں جتے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ انہیں قتل نہیں کر سکتا اس لیے نہیں کہ جاگیردار کو کسی نے اخلاقی قدروں کا درس دے دیا ہے بلکہ اسی لیے کہ اب روایتی حلام سے کام نہیں چل سکتا۔ ذرائع پیداوار کی نوعیت ایسی ہو گئی ہے کہ دلچسپی کے بغیر پیداواری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لوہاڈھالنے اور اس سے مختلف اوزار بنانے کے فن میں ترقی زراعت، باغبانی اور دودھ ہی کی پیداوار میں وسعت انفرادی دست کاری کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کارخانوں کا بھی وجود میں آجانا۔ یہ نشوونما اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ مزدور اپنے کام میں دلچسپی ظاہر کریں۔ روایتی غلام تو مجبور اور بے گھر تھا۔ اس کام سے متعلق دلچسپی نہ تھی اس کے مقابلے میں رعایتی نظام (مزارع/ہاری) جاگیرداری لئے زیادہ موزوں تھا کیونکہ اس کے پاس اپنے مویشی اور کاشت کاری کے اوزار ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے کسی حد تک اپنے کام سے دلچسپی بھی تھی۔ یہ دلچسپی زمین کاشت کرنے اور اپنی فصل کے ایک حصہ کو بطور لگان جاگیردار کے حوالے کرنے کے لیے تھی۔ عہد جاگیرداری میں معیشت زرعی پیداوار کے گرد گھومتی تھی۔ مزارعے کھیتی باڑی کے ذریعے نہ صرف اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے بلکہ محنت کا بہت بڑا حصہ جاگیردار وڈیرے یا مختلف واجبات اور لگانوں کی صورت میں ادا ہوتا تھا۔ یہ لوگ قانونا زمین سے بندھے ہوتے تھے۔ کھیتی باڑی کے علاوہ کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرنے اور دوسری جگہ جا کر آزاد ہونے کی مطلق اجازت نہ تھی۔ اپنی زرعی پیداوار کا نصف سے تین چوتھائی حصہ ریاست کے نمائندوں، نوابوں، جاگیرداروں اور ان کے حوالے کرنا پڑتا تھا۔ مفت بیگار اور جبری محصولات اور نذرانے اس کے علاوہ تھے اس سماج میں روز مرہ استعمال کی اشیالوگ پیدا کرتے تھے۔ سکے کا رواج بہت کم تھا۔ اناج، اور استعمال کی تمام اشیامل جاتی تھیں جو اپنے میں پیدا نہیں ہوتی تھیں۔ جاگیرداروں، نوابوں وغیرہ کو اپنے اپنے علاقے میں ہر قسم کے عدالتی اختیارات حاصل تھے۔ انہیں مقدموں کا فیصلہ کرنے، مجرموں کو جرمانہ، قید اور موت کی سزا دینے کا حق تھا۔ شہروں میں مزارعوں کی بجائے ہنر مندوں و فنکاروں کی زیادہ اکثریت تھی۔ لوہار، موچی، درزی، حجام، معمار، رنگریز، ظروف ساز، سنگ تراش اور ایسے ہی بیسیوں پیشے رائج تھے۔ا ن دستکاروں کے آلات، اوزار وغیرہ ان کی ذاتی ملکیت ہوتے تھے البتہ ان کی الگ الگ انجمنیں یا گلڈیں (برادریاں) تھیں جن کے قانون اور ضابطوں کی پابندی کرنی پڑتی تھی۔ نظام سرمایہ داوری عہد جاگیرداری کے بطن سے سرمایہ داری کا ظہور ہوا۔ پیداواری طریقوں کی تبدیلی اور ترقی نے نئے تقاضوں کو جنم دیا اور ان تقاضوں یا ضرورتوں کی جیسے تکمیل ہوتی گئی۔ سرمایہ داری نظام جڑ پکڑتا گیا۔ کاشتکار، مزارع یا ہاری اپنا فاصل اناج اور دستکار اپنی مصنوعات اشیائے ضرورت خریدنے کے لیے بازار میں فروخت کرتا تھا۔ اس کے پیش نظر ضروریات زندگی کا حصول ہوتا تھا اور بس! لیکن جب اور جہاں بازار کا رخ ضروریاتِ زندگی کے لیے نہیں بلکہ منافع کے حصول کے لیے کیا جانے لگا وہیں ہم کہتے ہیں کہ اب یہ نظام سرمایہ داری ہے۔ کارل مارکس کے بقول سرمایہ داری نظام کا بیچ تو چودہویں اور پندرہویں صدی میں ہی پھوٹنے لگا تھا مگر اس نظام کی کونپلیں سولہویں صدی میں نکلیں۔ پندرہویں صدی تک برطانیہ میں چاکری کا نظام ختم ہو چکا تھا۔ چھوٹے کاشتکار اور کھیت مزدور تھے جو اپنے فاضل وقت میں نوابوں کی زمینوں پر کام کرتے تھے، ان دونوں قسم کے کاشتکاروں کو شاملات یعنی گاں کی مشترکہ زمین پر مساوی حق تھا، شاملات کے علاوہ ہر جگہ ریاستی زمینیں بھی تھیں مگر بیلجیم میں اونی صنعت کو فروغ ہوا اور اون کی مانگ بڑھی تو برطانیہ کی منڈیوں میں بھی اون کا دام چڑھ گیا، نوابوں اور بڑے زمینداروں کے لیے روپیہ کمانے کا یہ سنہری موقع تھا۔ انہوں نے شاملات اور ریاستی زمینوں پر قبضہ کر کے بھیڑوں کی افزائش شروع کر دی۔ یوں اون کی برآمد سے نہ صرف سرمائے کا ارتکاز ہوا بلکہ ہزاروںبے دخل شدہ کاشتکار بھی پرولتاریہ میں تبدیل ہو گئے۔ ان کے پاس اپنی قوت محنت کے سوا بیچنے کے لیے کچھ باقی نہ بچا، لہذا انہوں نے مجبورا لندن، گلاسکو اور دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ بازار ان محنت کشوں سے بھر گئے اور صنعت کار انہیں کم سے کم اجرت پر ملازم رکھنے لگے۔ مینوفیکچرنگ دور جب رفتہ رفتہ مصنوعات کی مانگ بڑھنے لگی تو کاروباری طبقے نے ایک ہی پیشے کے بہت سے کاریگروں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کر کے ان سے کام لینا شروع کر دیا۔ یہ جگہ کارخانہ کہلائی۔ یہ کارخانہ، یہاں استعمال ہونے والے آلات و اوزار اور خام مال سب اس کی ذاتی ملکیت تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تیار شدہ مال بھی اس کی ذاتی ملکیت بن گیا۔ کاریگر جو پہلے آزاد ہنر مند تھے۔ کاروباری طبقے کے اجرتی مزدور ہو گئے۔ ایک ہی جگہ بہت سے کاریگروں کے کام کرنے سے تقسیم کار ممکن ہوئی جس سے پیداواور کی فی کس فی گھنٹہ مقدار بڑھ گئی اور سرمایہ کے منافع میں اسی نسبت سے اضافہ ہو گیا یہ سرمایہ داری کا پہلا دور تھا جسے مینو فیکچرنگ دور کہتے ہیں۔ فیوڈل دور کے پیداواری عمل اور مینوفیکچرنگ کے پیداواری عمل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ یہاں کاروباری طبقہ مال اپنے ذاتی استعمال کے لیے تیار نہیں کرواتا تھا اور نہ ہی مال کو بازار میں اس غرض سے بیچتا تھا کہ اپنی ذاتی اشیائے ضرورت خریدے بلکہ اس کا واحد مقصد منافع کا حصول یا دوسرے لفظوں میں اپنے سرمائے میں اضافہ کرنا ہوتا تھا۔ اشیاکی بجائے سرمایہ پیداوار۔۔۔زائد سرمایہ ہو گیا۔ یہاں کلیسا کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ فیوڈم ازل کا دوسرا بڑا اہم ستون تھا۔یہ یورپ کی نہایت دولت مند سیاسی طاقت تھی۔ اٹلی کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی لاکھوں ایکڑ زمین اس کے قبضے میں تھی۔ جس پر اس کو کوئی لگان یا محصول ادا نہیں کرنا پڑتا تھا اور کلیسا کے کاشتکار پادریوں کے غلام تصور کئے جاتے تھے۔ مزید برآں نوابوں کی رعایا کو بھی آمدنی کا دسواں حصہ کلیسا کو ادا کرنا پڑتا تھا کلیسا کے پادری ہر قصبے اور شہر میں پھیلے ہوئے تھے۔ جائیداد کی نگرانی کے علاوہ لوگوں کے ذہنوں پر بھی انہی کی حکمرانی تھی کیونکہ پادریوں کے سوا کسی کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا۔ رومن کلیسا ان پڑھ نوابوں سے بھی زیادہ معاشرتی اصلاح و ترقی کا دشمن تھا۔ ان کی مذہبی عدالتوں میں بادشاہ بھی مداخلت کی جرات نہ کرتا تھا۔ پادریوں کی مسلسل کوشش رہتی تھی کہ ایسے عناصر سر نہ اٹھانے پائیں جن سے کلیسائی آمدنی یا ذہنی و فکری اجارہ داری کو خطرہ ہو۔ کلیسا کی سزاں کے خوف سے ہر شخص کانپتا تھا۔ اگر کسی شخص کے عقائد کے بارے میں شبہ بھی ہو جاتا تو اسے آگ میں زندہ جلا دیا جاتا۔ یورپ کے فیوڈل طبقے اور رومن کلیسا کا مفاد ایک تھا۔ دونوں معاشرتی یا فکری اصلاح کے شدید مخالف تھے لطف یہ ہے کہ پاپائے روم اور دوسرے لاٹ پادری صرف اٹلی کے نواب خاندانوں ہی سے منتخب کئے جاتے تھے۔ اٹلی کے تجارتی شہروں میں مینوفیکچری کا دور چودہویں صدی میں شروع ہوا اور تاجروں نے دست کاری کے بڑے بڑے مراکز قائم کر لیے اس سے معاشرتی زندگی کے دوسرے شعبے بھی متاثر ہوئے۔ شہروں کی فضاپر رونق ہو گئی۔ سامان عیش و عشرت آرام کی فروانی سے لوگوں کے مزاج و مذاق میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں۔ قصہ کوتاہ یہ اٹلی کی نشا ثانیہ کا دور ثابت ہوا۔ مشینی دور گو مینو فیکچرنگ کا طریق پیداوار فیوڈل طریقہ پیداوار سے بہت بہتر تھا لیکن اپنے داخلی تضادات کو حل کرنے کی قدرت اس میں نہ تھی۔ اس میں پیداوار کو نہ تو ایک مخصوص سطح سے اوپر لے جانے کی گنجائش تھی اور نہ ہی گلڈوں کی بندشوں کو توڑنے کی ہمت اور اہلیت۔ ہر مینوفیکچرر ہنر مند اور سوداگر کو اپنے پیشے کی گلڈ کارکن بننا لازمی تھا۔ نیم ہنر مند اور بے ہنر مند مزدوروں کو سرے سے گلڈ بنانے کی اجازت ہی نہ تھی۔ مینو فیکچرنگ نے اٹلی کی تجارتی ریاستوں میں تقریبا سو سال تک بڑی رونق دکھائی۔ اسی اثنامیں فرانس، سپین، پرتگال، ہالینڈ اور برطانیہ کے بڑے بڑے شہروں میں بھی فیوڈل نوابوں کی مخالفت کے باوجود مینوفیکچرنگ کا پیداواری طریقہ رائج ہو گیا۔ ادھر امریکہ اور ہندوستان کے بحران راستوں کی دریافت نے مغربی یورپ کی تقدیر بدل دی۔ بین الاقوامی تجارت کی خاطر بڑی بڑی کمپنیاں قائم ہونے لگیں۔ تجارت پر اجارہ داری کے لئے، امریکہ کی سونے چاندی کی کانوں پر قبضہ کرنے کی خاطر، افریقی غلاموں کی خرید و فروخت میں سبقت لے جانے کی خاطر سپین، پرتگال، ہالینڈ، فرانس اور برطانیہ میں اقتصادی اور سیاسی رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں بلاخر فتح برطانیہ کو حاصل ہوئی اور وہ اپنے سب حریفوں سے آگے نکل گیا۔ سولہویں اور سترہیں صدی میں برطانیہ میں کان کنی، شیشہ سازی، ادنی پارچہ بانی اور اسلحہ سازی کی صنعتیں خوب پھیلی پھولیں اور تب نئے حالات پیداوار اور فیوڈل ازم کا پرانے پیداواری رشتوں میں تصادم ہونے لگا۔ ابھرتے ہوئے سرمایہ دار طبقے کو یقین ہو گیا کہ صنعت و حرفت اور تجارت کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو سیاسی اقتدار حاصل کئے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سترہیں صدی کی ابتدامیں لندن کے سرمایہ داروں اور بادشاہ جیمز اول کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہو گئی جو چارلس اول کے عہد میں باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئی۔ 1649 میں بادشاہ کا سر قلم ہوا اور سیاسی اقتدار فیوڈل طبقے سے نکل کر سرمایہ دار طبقے کے ہاتھ میں آگیا۔ لیکن برطانیہ کا پیداواری نظام ہنوز مینوفیکچرنگ ہی کے دور میں تھا اور سرمایہ دار طبقے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا تھا۔ غیر انسانی طاقت سے چلنے والی خود کار مشینوں کی ایجاد وقت کی اہم ضرورت ہو گئی۔ اگرچہ پن چکیوں اور ہوائی چکیوں سے کام لیا جاتا تھا لیکن یہ صرف آبشاروں دریا کے کناروں اور تیز ہواں میں ہی زیر استعمال آسکتی تھیں۔ وہ جو کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو دیگر میکانکی ایجادوں کا سلسلہ چل نکلا جو سوتی پارچہ بانی کی صنعت سے شروع ہو کر مختلف تبدیلیوں کے ساتھ آج تک جاری ہے۔ ان ایجادات کی وجہ سے سبھی صنعتوں کے پیداواری طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہو گئیں۔ پیداواری رشتوں کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں برطانیہ کے بعد فرانس، ہالینڈ، بیلجیم، جرمنی اور شمالی امریکہ میں بھی صنعتی انقلاب آگیا۔ خام مال اور مصنوعات کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ صنعت کار ریاستیں منڈیوں کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں۔ سرمایہ داری مقرر ہو گئی۔ ہر چیز کے خریدار وجود میں آئے۔ ہر شے بکا مال ہو گئی۔ انسان کا ضمیر اس کی سوچ، اس کے افکار اس کے عقائد لوح علم و فن سب کے دام لگنے گے۔ ہم نے دیکھا کہ قدیم اشتراکی سماج نے دور غلامی کو جنم دیا۔ دور غلامی کی کوکھ سے جاگیرداری سماج وجود میں آیا اور جاگیرداری کے بطن سے نظام سرمایہ داری پیدا ہوا۔ انفرادی دستکاریوں نے مینو فیکچرنگ کی شکل اختیار کی اور مینو فیکچرنگ بعد میں مشینی دور میں ڈھل گیا۔ آج بھی مشینی دور کا ارتقاجاری ہے۔ سامراج کا ظہور، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قیام اور اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی روبوٹ ٹیکنالوجی اور سپر کنڈکڑ کی ایجاد نے سرمایہ داری نظام کو ارتقاکی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اوپر کی بحث میں یہ بات واضح ہو کر سامنے آچکی ہے کہ پیداواری قوتوں کے ارتقاکے ساتھ ساتھ پیداواری رشتوں کا ارتقابھی لازم ہے اور سماج کی ایک سے دوسرے دور میں تبدیلی دراصل انہیں پیداواری رشتوں کی نئے سرے سے ترتیب کا دوسرا نام ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج سرمایہ داری نظام جس مقام پر کھڑا ہے کیا پیداواری رشتے اس سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس سوال کا جواب یقینا نفی میں ہے کیونکہ پیدوار کی اجتماعی ہیئت کا تقاضا ہے کہ پیداواری رشتوں میں بھی انفرادیت کی بجائے اجتماعیت نظر آئے۔ سوشلزم کی جدوجہد اسی اجتماعیت کے حصول کی کوشش کا نام ہے اور مادی تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تمام تاریخ مختلف طبقوں کی آپس میں کش مکش یعنی طبقاتی جدوجہد کا نام ہے کیونکہ نظام جب تبدیل ہوتا ہے تب اس میں سماج ترقی دینے کی اہلیت نہ رہے اور ایک طبقہ نئے تعلقات پیداوار ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اس نظام کا خاتمہ کر دے۔ موجودہ سرمایہ داری نظام کا گورکن مزدور طبقہ ہے۔ سرمایہ داری نظام اگرچہ گل سڑ چکا ہے لیکن اس نظام کا خاتمہ تب تک ممکن نہیں جب تک مزدور طبقہ اسے ختم کر کے سوشلزم کا دور بپا نہیں کر دیتا۔ ٭٭٭

Wednesday, February 9, 2011

حالات کیسے بدلیں گے؟


حالات کیسے بدلیں گے؟
شاہنواز فاروقی
جنرل پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک امریکہ کے حوالے کردیا۔ اس صورت حال نے ملک کی آزادی اور خودمختاری کو سوالیہ نشان بنادیا۔ ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کا وجود نہ رہا۔ معاشرہ دہشت گردی کی آگ میں جھلسنے لگا۔ پورا ملک امریکیوں کی چراگاہ بن گیا۔ امریکی غلامی نے ہمیں دس برس میں 50 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ اس صورتِ حال نے جنرل پرویز کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ حکومت تبدیل ہوئی مگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک غربت اور مہنگائی کے طوفانوں میں گھر گیا ہے۔ ملک کی 80 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے کھڑی سسک رہی ہے۔ امریکہ کی مداخلت بڑھتے بڑھتے تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور قوم پر نیا ٹیکس مسلط کرنے تک آگئی ہے۔ حکمرانوں کی بدعنوانی اور نااہلی کا عذاب اس کے سوا ہے۔ ملک میں قومی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا مگر حکومت کہیں نہیں تھی۔ اس منظرنامے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ ناکام نظر آرہی ہے۔ چار دفعہ اقتدار میں آنے والی پیپلزپارٹی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اقتدار میں شامل دوسری جماعتوں کی ناکامیاں اور بڑھی ہوئی ہیں۔ ملک کی بقا اور سلامتی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری یہ حالت کیوں ہے اور حالات کیسے بدلیں گے؟ تجزیہ کیا جائے تو ملک پر 60 سال سے مسلط حکمران طبقے میں تین بڑے عیب ہیں۔
یہ طبقہ نااہل ہے، بدعنوان ہے اور امریکہ کا غلام ہے۔ چنانچہ ان حالات کو بدلنے کی ایک ہی صورت ہے۔ ملک کو ایماندار، اہل، امریکہ کے اثر سے آزاد اور قوم کی خدمت کرنے والی قیادت فراہم کی جائے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی کا خمیر قرآن و سنت کی بالادستی، تقوے، علم، مزاحمت اور خدمت سے اٹھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کی قیادت کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، جماعت اسلامی پورے ملک میں متحرک نظر آتی ہے اور وہ اقتدار میں آئے بغیر قوم کی خدمت کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ چنانچہ ملک میں جماعت اسلامی ہی انقلاب کی علامت ہے۔ تبدیلی کی علامت ہے۔ آئیے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے۔ اس جماعت کا ساتھ جو ایمان داری، اہلیت اور خدمت ہی کی نہیں تمام تعصبات سے بلند ہونے کی بھی علامت ہے۔ یاد رکھیے علامہ اقبال نے فرمایا 

افسانے


  ماہی گیر  
  تحریر--------- سعادت حسن منٹو
 (فرانسیسی شاعر وکٹر ہیوگو کی ایک نظم کے تاثرات) 
سمندر رو رہا تھا۔ مقید لہریں پتھریلے ساحل کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ و زاری کر رہی تھیں۔ دور۔۔۔۔۔۔پانی کی رقصاں سطح پر چند کشتیاں اپنے دھندلے اور کمزور بادبانوں کے سہارے بے پناہ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کانپ رہی تھیں۔ آسمان کی نیلی قبا میں چاند کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ ستاروں کا کھیت اپنے پورے جوبن میں لہلہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔فضا سمندر کے نمکین پانی کی تیز بو میں بسی ہوئی تھی۔ ساحل سے کچھ فاصلے پر چند شکستہ جھونپڑیاں خاموش زبان میں ایک دوسرے سے اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔یہ ماہی گیروں کے سر چھپانے کی جگہ تھی۔ ایک جھونپڑی کا دروازہ کھلا تھا جس میں چاند کی آوارہ شعاعیں زمین پر رینگ رینگ کر اس کی کاجل ایسی فضا کو نیم روشن کر رہی تھیں۔ اس اندھی روشنی میں دیوار پر ماہی گیر کا جال نظر آرہا تھا اور ایک چوبی تختے پر چند تھالیاں جھلملا رہی تھیں۔ جھونپڑی کے کونے میں ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی، تاریک چادروں میں ملبوس اندھیرے میں سر نکالے ہوئے تھی۔ اس کے پہلو میں پھٹے ہوئے ٹاٹ پر پانچ بچے محوِ خواب تھے۔۔۔۔۔۔۔ننھی روحوں کا ایک گھونسلا جو خوابوں سے تھر تھرا رہا تھا۔ پاس ہی انکی ماں نہ معلوم کن خیالات میں مستغرق گھٹنوں کے بل بیٹھی گنگنا رہی تھی۔ یکایک وہ لہروں کا شور سن کر چونکی۔۔۔۔بوڑھا سمندر کسی آنے والے خطرے سے آگاہ، سیاہ چٹانوں، تند ہواں اور نصف شب کی تاریکی کو مخاطب کرکے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور بچوں کے پاس جا کر ہر ایک کی پیشانی پر اپنے سرد لبوں سے بوسہ دیا اور وہیں ٹاٹ کے ایک کونے میں بیٹھ کر دعا مانگنے لگی۔ لہروں کے شور میں یہ الفاظ بخوبی سنائی دے رہے تھے۔ 
"اے خدا۔۔۔۔۔اے بیکسوں اور غریبوں کے خدا، ان بچوں کا واحد سہارا، رات کا کفن اوڑھے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔موت کے عمیق گڑھے پر پاں لٹکائے ہے۔۔۔۔۔۔صرف انکی خاطر وہ ہر روز اس دیو کے ساتھ کشتی لڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تو اسکی جان حفاظت میں رکھیو۔۔۔۔۔۔۔آہ، اگر یہ صرف نوجوان ہوتے، اگر یہ صرف اپنے والد کی مدد کر سکتے۔" 
یہ کہہ کر خدا معلوم اسے کیا خیال آیا کہ وہ سر سے پیر تک کانپ گئی۔ اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھرتھراتی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔ "بڑے ہو کر انکا بھی یہی شغل ہوگا، پھر مجھے چھ جانوں کا خدشہ لاحق رہے گا۔۔۔۔۔۔۔آہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ غربت، غربت۔" 
یہ کہتے ہوئے وہ اپنی غربت اور تنگ دامانی کے خیالات میں غرق ہوگئی۔ دفعتاً وہ اس اندھیرے خواب سے بیدار ہوئی اور اس کے دماغ میں ہوٹلوں کی دیو قامت عمارتیں اور امرا کے راحت کدوں کی تصویریں کھچ گئیں۔ ان عمارتوں کی دلفریب راحتوں اور امرا کی تعیش پرستیوں کا خیال آتے ہی اس کے دل پر ایک دھند سی چھا گئی۔ کلیجے پر کسی غیر مرئی ہاتھ کی گرفت محسوس کرکے وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے سے تاریکی میں آوارہ نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔ 
اسکی یہ حرکت خیالات کی آمد کو نہ روک سکی۔ وہ سخت حیران تھی کہ لوگ امیر اور غریب کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہر انسان ایک ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سوال کے حل کیلیے اس نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ ایک اور چیز جو اسے پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ جب اسکا خاوند اپنی جان پر کھیل کر سمندر کی گود سے مچھلیاں چھین کر لاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مارکیٹ کا مالک بغیر محنت کئے ہر روز سینکڑوں روپے پیدا کر لیتا ہے۔ اسے یہ بات خاص طور پر عجیب سی معلوم ہوئی کہ محنت تو کریں ماہی گیر اور نفع ہو مارکیٹ کے مالک کو۔ رات بھر اسکا خاوند اپنا خون پسینہ ایک کردے اور صبح کے وقت آدھی کمائی اسکی بڑی توند میں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کچھ جواب نہ پا کر وہ ہنس پڑی اور بلند آواز میں کہنے لگی۔ 
"مجھ کم عقل کو بھلا کیا معلوم۔ یہ سب کچھ خدا جانتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔" 
اس کے بعد وہ کچھ کہنے والی تھی کہ کانپ اٹھی۔ "اے خدا میں گنہگار ہوں، تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔۔۔۔۔ایسا خیال کرنا کفر ہے۔" 
یہ کہتی ہوئی وہ خاموشی سے اپنے بچوں کے پاس آکر بیٹھ گئی اور انکے معصوم چہروں کی طرف دیکھ کر بے اختیار رونا شروع کردیا۔ 
باہر آسمان پر کالے بادل مہیب ڈائنوں کی صورت میں اپنے سیاہ بال پریشان کئے چکر کاٹ رہے تھے۔ کبھی کبھی اگر کوئی بادل کا ٹکڑا چاند کے درخشاں رخسار پر اپنی سیاہی مل دیتا تو فضا پر قبر کی تاریکی چھا جاتی۔ سمندر کی سیمیں لہریں گہرے رنگ کی چادر اوڑھ لیتیں اور کشتیوں کے مستولوں پر ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اس اچانک تبدیلی کو دیکھ کر آنکھیں جھپکنا شروع کر دیتیں۔ 
ماہی گیر کی بیوی نے اپنے میلے آنچل سے آنسو خشک کئے اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دیکھنے لگی کہ آیا دن طلوع ہوا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کا خاوند طلوع کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گھر واپس آ جایا کرتا تھا مگر صبح کا ایک سانس بھی بیدار نہ ہوا تھا۔ سمندر کی تاریک سطح پر روشنی کی ایک دھاری بھی نظر نہ آ رہی تھی۔ بارش کاجل کی طرح تمام فضا پر برس رہی تھی۔ 
وہ بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑی اپنے خاوند کے خیال میں مستغرق رہی۔ جو اس بارش میں سمندر کی تند موجوں کے مقابلے میں لکڑی کے ایک معمولی تختے اور کمزور بادبان سے مسلح تھا۔ وہ ابھی اسکی عافیت کیلیے دعا مانگ رہی تھی کہ یکایک اس کی نگاہیں اندھیرے میں ایک شکستہ جھونپڑی کی طرف اٹھیں، جو تاروں سے محروم آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے لرز رہی تھی۔ اس جھونپڑی میں روشنی کا نام تک نہ تھا۔ کمزور دروازہ کسی نا معلوم خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ تنکوں کی چھت ہوا کے دبا تلے دوہری ہو رہی تھی۔ 
"آہ، خدا معلوم بیچاری بیوہ کا کیا حال ہے۔۔۔۔۔۔اسے کئی روز سے بخار آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ماہی گیر کی بیوی زیرِ لب بڑبڑائی اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید کسی روز وہ بھی اپنے خاوند سے محروم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔کانپ اٹھی۔ 
وہ شکستہ جھونپڑی ایک بیوہ کی تھی جو اپنے دو کم سن بچوں سمیت روٹی کے قحط میں موت کی گھڑیاں کاٹ رہی تھی۔ مصیبت کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں اس پر کوئی سایہ کرنے والا نہ تھا۔ رہا سہا سہارا دو ننھے بچے تھے جو ابھی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔ 
ماہی گیر کی بیوی کے دل میں ہمدردی کا جذبہ امڈا۔ بارش سے بچا ئوکے لیے سر پر ٹاٹ کا ایک ٹکڑا رکھ کر اور ایک اندھی لالٹین روشن کرنے کے بعد وہ جھونپڑی کے پاس پہنچی اور دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لہروں کا شور اور تیز ہواں کی چیخ پکار اس دستک کا جواب تھے، وہ کانپی اور خیال کیا کہ شاید اس کی اچھی ہمسائی گہری نیند سو رہی ہے۔ 
اس نے ایک بار پھر آواز دی، دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب پھر خاموشی تھا۔۔۔۔۔۔کوئی صدا، کوئی جواب اس جھونپڑی کے بوسیدہ لبوں سے نمودار نہ ہوا۔ یکایک دروازہ، جیسے اس بے جان چیز نے رحم کی لہر محسوس کی، متحرک ہوا اور کھل گیا۔ 
ماہی گیر کی بیوی جھونپڑی کے اندر داخل ہوئی اور اس خاموش قبر کو اپنی اندھی لالٹین سے روشن کر دیا، جس میں لہروں کے شور کے سوا مکمل سکوت طاری تھا۔ پتلی چھت سے بارش کے قطرے بڑے بڑے آنسوں کی صورت میں سیاہ زمین کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا میں ایک مہیب خوف سانس لے رہا تھا۔ 
ماہی گیر کی بیوی اس خوفناک سماں کو دیکھ کر جو جھونپڑی میں سمٹا ہوا تھا سر تا پا ارتعاش بن کر رہ گئی۔ آنکھوں میں گرم گرم آنسو چھلکے اور بے اختیار اچھل کر بارش کے ٹپکے ہوئے قطروں کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور دردناک آواز میں کہنے لگی۔ 
"آہ۔۔۔۔۔تو ان بوسوں کا جو جسم کو راحت بخشتے ہیں، ماں کی محبت، گیت، تبسم، ہنسی اور ناچ کا ایک ہی انجام ہے۔۔۔۔۔۔۔یعنی قبر۔۔۔۔۔۔۔آہ میرے خدا۔" 
اس کے سامنے پھوس کے بستر پر بیوہ کی سرد لاش اکڑی ہوئی تھی اور اس کے پہلو میں دو بچے محو خواب تھے۔ لاش کے سینے میں ایک آہ کچھ کہنے کو رکی ہوئی تھی۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں جھونپڑی کی خستہ چھت کو چیر کر تاریک آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھیں، جیسے انہیں کچھ پیغام دینا ہے۔ 
ماہی گیر کی بیوی اس وحشت خیز منظر کو دیکھ کر چلا اٹھی۔ تھوڑی دیر دیوانہ وار ادھر ادھر گھومی۔ یکایک اس کی نمناک آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی، اور اس نے لپک کر لاش کے پہلو سے کچھ چیز اٹھا کر اپنی چادر میں لپیٹ لی اور اس دار الخطر سے لڑکھڑاتی ہوئی اپنی جھونپڑی میں چلی آئی۔ 
چہرے کے بدلے ہوئے رنگ اور لرزاں ہاتھوں سے اس نے اپنی جھولی کو میلے بستر پر خالی کر دیا اور اس پر پھٹی ہوئی چادر ڈال دی۔ تھوڑی دیر بیوہ سے چھینی ہوئی چیز کی طرف دیکھ کر وہ اپنے بچوں کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔ 
مطلع سمندر کے افق پر سپید ہو رہا تھا۔ سورج کی دھندلی شعاعیں تاریکی کا تعاقب کر رہی تھیں۔ ماہی گیر کی بیوی بیٹھی اپنے احساسِ جرم کے شکستہ تار چھیڑ رہی تھی۔ ان غیر مربوط الفاظ کے ساتھ کن سری لہریں اپنی مغموم تانیں چھیڑ رہی تھیں۔ 
"آہ میں نے بہت برا کیا۔ اب اگر وہ مجھے مارے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔۔۔۔یہ بھی عجیب ہے کہ میں اس سے خائف ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔کیا واپس چھوڑ آں۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔شاید وہ مجھے معاف کردے۔" 
وہ اسی قسم کے خیالات میں غلطاں و پیچاں بیٹھی ہوئی تھی کہ ہوا کے زور سے دروازہ ہلا۔ یہ دیکھر اسکا کلیجہ دھک سے رہ گیا، وہ اٹھی اور کسی کو نہ پا کر وہیں متفکر بیٹھ گئی۔ 
"ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ان بچوں کیلیے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اکیلے آدمی کو سات پیٹ پالنے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ شور کیا ہے؟" 
یہ آواز چیختی ہوئی ہوا کی تھی جو جھونپڑی کے ساتھ رگڑ کر گزر رہی تھی۔ 
"اس کے قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ نہیں ہوا ہے۔" یہ کہہ کر وہ پھر اپنے اندرونی غم میں ڈوب گئی۔ اب اس کے کانوں میں ہوا اور لہروں کا شور مفقود ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینے میں خیالات کے تصادم کا کیا کم شور تھا۔ 
آبی جانور ساحل کے آس پاس چلا رہے تھے۔ پانی میں گھسے ہوئے سنگریزے ایک دوسرے سے ٹکرا کر کھنکھنا رہے تھے۔ کشتی کے چپوں کی آواز صبح کی خاموش فضا کو مرتعش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماہی گیر کی بیوی کشتی کی آمد سے بے خبر اپنے خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔ 
دفعتاً دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا۔۔۔۔۔۔صبح کی دھندلی شعاعیں جھونپڑی میں تیرتی ہوئی داخل ہوئیں، ساتھ ہی ماہی گیر کاندھوں پر ایک بڑا سا جال ڈالے دہلیز پر نمودار ہوا۔ 
اس کے کپڑے رات کی بارش اور سمندر کے نمکین پانی سے شرابور ہو رہے تھے۔ آنکھیں شب بیداری کی وجہ سے اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ جسم سردی اور غیر معمولی مشقت سے اکڑا ہوا تھا۔ 
"نسیم کے ابا، تم ہو۔" ماہی گیر کی بیوی چونک اٹھی اور عاشقانہ بیتابی سے اپنے خاوند کو چھاتی سے لگا لیا۔ 
"ہاں میں ہوں پیاری" 
یہ کہتے ہوئے ماہی گیر کے کشادہ مگر مغموم چہرے پر مسرت کی ایک دھندلی روشنی چھا گئی۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔بیوی کی محبت نے اس کے دل سے رات کی کلفت کا خیال محو کر دیا۔ 
"موسم کیسا تھا؟" بیوی نے محبت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔ 
"تند" 
"مچھلیاں ہاتھ آئیں؟" 
"بہت کم۔۔۔۔۔آج رات تو سمندر قزاقوں کے گروہ کی مانند تھا۔" 
یہ سن کر اس کی بیوی کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ماہی گیر نے اسے مغموم دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ 
"تو میرے پہلو میں ہے۔۔۔۔۔۔میرا دل خوش ہے۔" 
"ہوا تو بہت تیز ہوگی؟" 
"بہت تیز، معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا کہ تمام شیطان مل کر اپنے منحوس پر پھڑ پھڑا رہے ہیں۔ جال ٹوٹ گیا۔ رسیاں کٹ گئیں اور کشتی کا منہ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔" پھر اس گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔ "مگر تم شب بھر کیا کرتی رہی ہو پیاری؟" 
بیوی کسی چیز کا خیال کرکے کانپی اور لرزاں آواز میں جواب دیا۔ "میں۔۔۔۔۔۔آہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔سیتی پروتی رہی، تمھاری راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔۔لہریں بجلی کی طرح کڑک رہی تھیں، مجھے سخت ڈر لگ رہا تھا۔" 
"ڈر۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" 
"اور ہاں، ہماری ہمسایہ بیوہ مر گئی ہے۔" بیوی نے اپنے خاوند کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ 
ماہی گیر نے یہ دردناک خبر سنی مگر اسے کچھ تعجب نہ ہوا۔ شاید اس لیے کہ وہ ہر گھڑی اس عورت کی موت کی خبر سننے کا متوقع تھا۔ اس نے آہ بھری اور صرف اتنا کہا۔ "بیچاری سدھار گئی ہے۔" 
"ہاں اور دو بچے چھوڑ گئی ہے جو لاش کے پہلو میں لیٹے ہوئے ہیں۔" 
یہ سن کر ماہی گیر کا جسم زور سے کانپا اور اس کی صورت سنجیدہ و متفکر ہوگئی۔ ایک کونے میں اپنی اونی ٹوپی، جو پانی سے بھیگ رہی تھی، پھینک کر سر کھجلایا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آپ سے بولا۔ 
"پانچ بچے تھے، اب سات ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔اس سے پیشتر ہی اس تند موسم میں ہمیں دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا تھا۔ اب مگر خیر۔۔۔۔یہ میرا قصور نہیں۔ اس قسم کے حوادث بہت گہرے معانی رکھتے ہیں۔" 
وہ کچھ عرصے تک اسی طرح اپنا سر گھٹنوں میں دبائے سوچتا رہا۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ خدا نے ان بچوں سے جو اس کی مٹھی کے برابر بھی نہیں ہیں، ماں کیوں چھین لی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بچوں سے جو نہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسکا دماغ ان سوالوں کا کوئی حل نہ پیش کر سکا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا۔ 
"شاید ایسی چیزوں کو ایک پڑھا لکھا ہی سمجھ سکتا ہے۔" اور پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر بولا۔ "پیاری جا انہیں یہاں لے آ۔ وہ کس قدر وحشت زدہ ہونگے اگر وہ صبح اپنی ماں کی لاش کے پاس بیدار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انکی ماں کی روح سخت بے قرار ہوگی، جا انھیں ابھی لیکر آ۔" 
یہ کہہ کر وہ سوچنے لگا کہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔ وہ بڑے ہو کر اس کے گھٹنوں پر چڑھنا سیکھ جائینگے۔ خدا ان اجنبیوں کو جھونپڑی میں دیکھ کر بہت خوش ہوگا اور انھیں زیادہ کھانے کو عطا کرے گا۔ 
"تمھیں فکر نہیں کرنی چاہیئے پیاری۔۔۔۔۔۔۔میں زیادہ محنت سے کام کروں گا۔" اور پھر اپنی بیوی کو چارپائی کی طرف روانہ ہوتے دیکھ کر بلند آواز میں کہنے لگا۔ "مگر تم سوچ کیا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔اس دھیمی چال سے نہیں چلنا چاہئے تمھیں۔" 
ماہی گیر کی بیوی نے چارپائی کے پاس پہنچ کر چادر کو الٹ دیا۔ 
"وہ تو یہ ہیں۔" 
دو بچے صبح کی طرح مسکرا رہے تھے۔ (یکم فروری 1935 )

دادو: ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے 2 ایم پی ایز سمیت تمام ملزمان بری

  دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی ...