Wednesday, April 1, 2026

دادو: ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے 2 ایم پی ایز سمیت تمام ملزمان بری



 دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت تمام 8 نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔

عدالت کے مطابق سردار احمد خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام ملزمان کو باعزت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ مقدمہ میہڑ کے تہرے قتل کیس سے متعلق تھا جو تقریباً 8 سال 3 ماہ تک عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ کیس کے دوران مجموعی طور پر 392 پیشیاں ہوئیں۔ فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ دادو کے جج حسین کلوڑ نے ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلہ سنانے سے قبل سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ ضلع بھر کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز، 6 ڈی ایس پیز اور 589 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ عدالت کے اطراف دو کلومیٹر تک ناکہ بندی کر کے سڑکیں سیل کی گئیں۔

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مدعی ام رباب چانڈیو نے کہا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں، دنیا حیران ہے کہ سندھ میں سردار وڈیروں کو قتل کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے، میرے حوصلے بلند ہیں، میں عدالتی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کروں گی۔

ان کے وکیل صلاح الدین پنہور نے اعلان کیا کہ ماڈل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کا ام رباب چانڈیو کیس میں عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کی بریت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار

ہیومن رائٹس کونسل پاکستان نے کہا کہ یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے اور ہمارے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، ٹرپل مرڈر کیس میں ملزمان کی بریت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں۔

ہیومن رائٹس کونسل کے مطابق تفتیشی اداروں اور عدالتی عمل کی سنجیدہ جانچ کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Saturday, March 28, 2026

مائنڈ سیٹ

کیرول ڈویک کی کتاب "مائنڈ سیٹ" دراصل انسانی نفسیات کا ایک شاہکار ہے۔ جب ہم اس کتاب کے شاندار نفسیاتی اصولوں کو قرآنی شعور (فہمِ دین) کی عینک سے دیکھتے ہیں، تو یہ صرف دنیاوی کامیابی کا نسخہ نہیں رہتی، بلکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کا ایک عملی اور آسان راستہ بن جاتی ہے۔

آئیے اس کتاب کے اصل پیغام کو نہایت آسان اردو، دلچسپ مثالوں (Analogies) اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ تفصیل سے سمجھتے ہیں:

مائنڈ سیٹ: کامیابی اور ترقی کی نفسیات کا تفصیلی خلاصہ

کتاب کا بنیادی نچوڑ یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کی پیدائشی ذہانت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی "سوچ کے انداز" (Mindset) سے ہوتا ہے۔ یہ سوچ دو طرح کی ہوتی ہے:

1.
بنیادی تصور: دو طرح کی سوچیں (The Core Concept)

جمود پسند سوچ (Fixed Mindset): یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ذہانت اور خوبیاں پیدائشی ہوتی ہیں اور انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔

ارتقائی سوچ (Growth Mindset): یہ لوگ مانتے ہیں کہ محنت، سیکھنے اور مسلسل کوشش سے کسی بھی صلاحیت کو نکھارا جا سکتا ہے۔

مثال: جمود پسند سوچ ایک "پتھر" کی طرح ہے، جس پر جتنا بھی پانی ڈالیں، وہ اندر سے سوکھا ہی رہتا ہے۔ جبکہ ارتقائی سوچ ایک "بیج" کی طرح ہے، جسے اگر محنت کی مٹی اور توکل کا پانی ملے، تو وہ ایک تناور درخت بن سکتا ہے۔ اللہ نے ہر انسان کے اندر صلاحیتوں کا بیج رکھا ہے، اسے محنت سے درخت بنانا ہمارا کام ہے۔

2.
ناکامی کا اصل مطلب کیا ہے؟ (Meaning of Failure)

جمود پسند سوچ: ان کے لیے ناکامی کا مطلب "ذلت" ہے۔ اگر وہ فیل ہو جائیں تو خود کو نالائق سمجھ کر کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔

ارتقائی سوچ: ان کے لیے ناکامی صرف ایک "سبق" ہے۔ دین میں اسے "آزمائش" کہتے ہیں۔ یہ انہیں بتاتی ہے کہ ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔

مثال : جب ایک چھوٹا بچہ چلنا سیکھتا ہے اور گر پڑتا ہے، تو کیا ہم اسے "ناکام" کہتے ہیں؟ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا گرنا دراصل اس کے چلنے سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ اسی طرح زندگی میں ملنے والی ناکامی ہمیں گر کر دوبارہ اٹھنا سکھاتی ہے۔

3.
محنت کی اہمیت اور توکل (The Power of Effort)

جمود پسند سوچ: یہ لوگ محنت کو کمزوری سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر آپ واقعی ذہین ہیں تو آپ کو محنت کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے۔

ارتقائی سوچ: یہ محنت کو کامیابی کا واحد راستہ مانتے ہیں۔ قرآن بھی یہی سکھاتا ہے کہ "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی"۔

مثال : یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ اپنی گاڑی میں پیٹرول (صلاحیت) تو بھروا لیں، لیکن اسے چلانے (محنت) سے انکار کر دیں۔ ارتقائی سوچ کا مسلمان وہ ہے جو حدیثِ رسول ﷺ کے مطابق "پہلے اونٹ کا گھٹنہ باندھتا ہے (بھرپور محنت) اور پھر اللہ پر توکل کرتا ہے"۔

4.
کھیل، ہنر اور عملی زندگی (Skills and Real Life)

یہ کتاب بتاتی ہے کہ بڑے بڑے ٹیلنٹڈ لوگ صرف اس لیے پیچھے رہ گئے کیونکہ انہوں نے خود کو بہتر بنانا چھوڑ دیا، جبکہ مائیکل جارڈن جیسے عام کھلاڑیوں نے مسلسل پریکٹس سے تاریخ رقم کی۔

مثال: ایک بہترین لوہے کی تلوار (پیدائشی ٹیلنٹ) اگر میان میں پڑی رہے تو اسے زنگ لگ جاتا ہے۔ لیکن ایک عام لوہے کی تلوار کو اگر روزانہ پتھر پر رگڑ کر دھار لگائی جائے (Growth Mindset)، تو وہ میدانِ جنگ میں کمال دکھاتی ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی بھی مسلسل جدوجہد اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا نام ہے تاکہ وہ دین اور دنیا میں بہترین کردار ادا کر سکے۔

5.
کاروبار اور بہترین قیادت (Leadership and Business)

جمود پسند لیڈر: یہ وہ باس ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں، غلطی نہیں مانتے اور تنقید سے چڑتے ہیں (یہ فرعونیت اور تکبر کی علامت ہے)۔

ارتقائی لیڈر: یہ اپنی ٹیم کی بات سنتے ہیں، اپنی غلطی مانتے ہیں اور ادارے کو ایک خاندان کی طرح چلاتے ہیں۔

مثال: ایک مغرور لیڈر اس "پلاسٹک کے درخت" کی طرح ہے جو دیکھنے میں تو بڑا شاندار لگتا ہے، لیکن نہ بڑھتا ہے اور نہ کسی کو پھل دیتا ہے۔ ارتقائی لیڈر ایک "پھل دار درخت" ہے جو جتنا پھل دیتا ہے، اتنا ہی جھک جاتا ہے (تواضع اور شورائیت)۔

6.
رشتے اور تعلقات (Relationships and Marriage)

جمود پسند سوچ: یہ سمجھتے ہیں کہ سچے رشتے خود بخود چلتے ہیں۔ اگر لڑائی ہو جائے تو فوراً رشتہ توڑنے کا سوچتے ہیں۔

ارتقائی سوچ: یہ جانتے ہیں کہ اچھے رشتے کے لیے مسلسل سمجھوتے، معاف کرنے اور بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثال: رشتے ایک "زندہ باغ" کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں روزانہ توجہ، پیار اور درگزر کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ انہیں جنگل کی طرح چھوڑ دیں گے تو ان میں غلط فہمیوں کی جڑی بوٹیاں اگ آئیں گی۔ اسلام کا نظامِ "حقوق العباد" بھی اسی روزانہ کی محنت اور ایثار کا نام ہے۔

7.
بچوں کی صحیح تربیت کیسے کریں؟ (Parenting and Tarbiyah)
ہمیں بچوں کے ذہن کیسے بنانے چاہئیں؟

غلط طریقہ: بچے سے کہنا "تم تو پیدائشی جینئس ہو"۔ اس سے بچہ مغرور ہو جاتا ہے اور مشکل کام سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کا 'جینئس' ہونے کا ٹیگ نہ اتر جائے۔

صحیح طریقہ: بچے کی محنت اور نیت کی تعریف کریں۔ اسے کہیں، "تم نے اس مشکل سوال کو حل کرنے کے لیے جو مسلسل محنت کی ہے، مجھے اس پر فخر ہے۔"

8.
اپنی سوچ کو کیسے بدلیں؟ (The Journey of Change)

اپنے اندر موجود منفی اور جمود پسند سوچ کو ارتقائی سوچ میں بدلنے کا عمل دراصل اسلام میں "تزکیہ نفس" (خود کو پاک کرنے) کا عمل کہلاتا ہے:

پہچانیں: مان لیں کہ ہم سب کے اندر کہیں نہ کہیں مایوسی یا سستی موجود ہے۔

غور کریں: دیکھیں کہ وہ کون سا وقت ہوتا ہے جب آپ کا دل کہتا ہے "مجھ سے یہ نہیں ہوگا"۔

جواب دیں: جب اندر کی آواز آپ کو ڈرائے، تو اسے بتائیں: "میں یہ کام ابھی نہیں کر سکتا، لیکن میں محنت کروں گا، سیکھوں گا اور اللہ میرے لیے راستے کھول دے گا۔"

یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ آپ کا دماغ اور آپ کی صلاحیتیں کسی لوہے کے ڈبے میں بند نہیں ہیں۔ یہ ایک پٹھے (Muscle) کی طرح ہیں؛ جتنا آپ انہیں چیلنج کریں گے، محنت کریں گے اور سیکھیں گے، یہ اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ ارتقائی سوچ (Growth Mindset) اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر سکے اور دنیا میں ایک بہترین اور کارآمد انسان بن کر جیے۔


Friday, March 27, 2026

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

 

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

ذیل کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے ،یہ بالکل درست بات ہے ،اکثر اداروں میں مالکان مسائل کا حل چاہتے ہیں ،وہ کسی جھنجھٹ  میں نہیں پڑنا چاہتے،وہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ سکون سے ہو ،اور جو فرد اس طرح کام کرکے دیتا ہے ،اسی کی دھاک بیٹھتی ہے۔

o      مہارت کافی نہیں، مسئلہ حل کرنا ہی اصل کامیابی ہے
لوگ کام کے نہیں، نتائج کے پیسے دیتے ہیں

o      پہچان ویلیو ایڈ کرنے سے بنتی ہے اسکل سے نہیں۔

o      پروڈکٹ نہیں،حل بیچو— کامیابی خود آئے گی۔

o      Netflix سے Foodpanda تک: کامیابی کا راز’ آسانی بیچنے میں ہے۔

o       کام جاننے والے بہت، نتیجہ دینے والے کم

o      اصل کھیل اسکل کا نہیں، رزلٹ کا ہے

o      جو مسئلہ حل کرے گا، وہی کمائے گا

o      کلیرٹی نہیں تو کمائی نہیں — پروفیشنل دنیا کا اصول

o      “Skill سیکھو نہیں، Result دینا سیکھو

o      اہم یہ نہیں ہے کہ آپ نے کوئی اسکل سیکھ لی ہے،اہم یہ ہے کہ آپ جس فیلڈ میں ہیں اس کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت آپ میں ہے یا نہیں۔

o      ہم اسکل تو سیکھ لیتے ہیں مگر مسئلہ حل کرنا نہیں سیکھتے۔

o       کتنے ایسے افراد ہیں جوزیادہ اسکلڈ نہیں مگر اپنی فیلڈ میں 25 سال سے کام کررہے ہیں ۔

o      Netflix، Uber، Careem اور Foodpanda پروڈکٹ نہیں بلکہ آسانی، سکون اور مسئلے کا حل بیچتے ہیں۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ آپ چیز نہیں بیچتے، بلکہ لوگوں کی زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ لوگ پروڈکٹ نہیں خریدتے، بلکہ اپنی مسئلے کا حل اور آسانی خریدتے ہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں نہیں، بلکہ کس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔

o      یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔

o      میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔

پروفیشنل دنیا میں کامیابی صرف اسکل (Skill) سے نہیں، بلکہ ”رزلٹ دینے کی صلاحیت اور اعتماد کے ساتھ کمیٹمنٹ “سے آتی ہے۔

اصل سبق (Professional Insight) :

کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو صرف یہ کہیں:
میں یہ کام کرنا جانتا ہوں

بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ کہیں:
میں آپ کو یہ نتیجہ دے سکتا ہوں

اس میں چھپا بڑا اصول:

·         اسکل = آپ کیا کر سکتے ہو

·         رزلٹ = آپ کس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو

👉 دنیا اسکل نہیں، رزلٹ خریدتی ہے

پروفیشنل لائف کے لیے مین ٹیک اوے:

1.    Value-based بات کرو، Skill-based نہیں

o        ”میں Facebook ads چلاتا ہوں کمزور بات ہے

o        ”میں آپ کے leads 5x کر سکتا ہوںمضبوط بات ہے

2.    Confidence + Clarity = Trust
جو شخص واضح نمبر اور outcome بتاتا ہے، اس پر لوگ زیادہ اعتماد کرتے ہیں

3.    Problem solver بنو، Worker نہیں
کامیاب لوگ task نہیں کرتے، result solve کرتے ہیں

4.    Measurable impact دو
جتنا measurable ہوگا (10 50 leads)، اتنی credibility بڑھے گی


ایک لائن میں خلاصہ:

اسکل تمہیں کام دلائے گی، مگر Result تمہیں کامیاب بنائے گا۔

یہی اصل پروفیشنل مائنڈسیٹ ہے۔


صرف مہارت رکھنا کامیابی کی ضمانت نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی مہارت سے ادارے کے لیے کتنی قدر (Value) پیدا کرتے ہیں۔


مزید چند زبردست متبادل:

1.    اسکل ہونا اہم ہے، مگر اس سے ادارے کو فائدہ پہنچانا اصل کامیابی ہے۔

2.    آپ کی قابلیت نہیں، بلکہ آپ کی ویلیو ایڈ ہی آپ کی اصل پہچان بنتی ہے۔

3.    کام جاننا کافی نہیں، کام کا اثر دکھانا ضروری ہے۔

4.    پیشہ ور وہ نہیں جو کام کرے، بلکہ وہ ہے جو نتیجہ دے۔


ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مجھ سے انباکس میں یہی سوال پوچھتا ہے:
"
حالات بگڑتے جارہے ہیں، مہنگائی بے قابو ہورہی ہے، میں کون سا کام کروں تاکہ اپنی آمدنی بڑھا سکوں؟"
اور پچھلے کچھ ہفتوں میں، جب سے مڈل ایسٹ میں جنگ کی وجہ سے حالات غیر یقینی ہوئے ہیں، یہ سوال اور بھی زیادہ آنے لگا ہے۔
میرا جواب سن کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں۔
دیکھیے، میں یہ نہیں بتاتا کہ کون سا کام کریں یا سیکھیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔
صحیح سوال یہ نہیں ہے کہ "کون سا کام سیکھا اور کیا جائے؟"
صحیح سوال یہ ہے کہ "لوگ پہلے سے کہاں پیسے خرچ کر رہے ہیں اور انہیں اس کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے؟"
جب میں یہ بات سمجھاتا ہوں تو پہلے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں، پھر دماغ کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، یا کوئی اور اسکلز سیکھ لیں گے تو کلائنٹ خود آ جائیں گے اور ہم چند مہینوں میں اچھا کمانا شروع کردیں گے۔
لوگ مہینوں محنت کرتے ہیں، کوئی اسکل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیکھ بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی سروسز بیچ نہیں پاتے۔
کیونکہ انہوں نے غلطی یہ کی ہے کہ انہوں نے ایک اسکل سیکھ لی ہے، لیکن مسئلے کو حل کرنا نہیں سیکھا۔
مجھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب 23 برس ہوگئے ہیں اور میں نے جتنے کامیاب لوگ دیکھے ہیں، جن کے ساتھ کام کیا ہے، وہ عام طور پہ سب سے زیادہ اسکلڈ لوگ نہیں ہوتے ہیں۔
بلکہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں:
"
میر کام کے نتیجے میں آپ کی لیڈز میں اضافہ ہوجائے گا، یعنی اگر اس وقت روزانہ 10 انکوائریز آرہی ہیں تو میرے کام کے نتیجے میں آئندہ دو سے تین ماہ 50 انکوائریز آنی شروع ہوجائیں گی۔"
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی کسٹمر کمپلینز میں 40 فیصد کمی" واقع ہوگی۔ "
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی اکاؤنٹنگ اور بک کیپنگ آسان" ہوجائے گی اور آپ کے روزانہ دو سے تین گھنٹے بچیں گے۔"
یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔
آپ میں سے اکثر لوگ نیٹ فلکس کو جا تے ہیں۔ نیٹ فلکس آپ کو موویز نہیں بیچتا، وہ بوریت کا حل بیچتا ہے۔ ریلیکس ہونا بیچتا ہے، آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں، وہ انجوائمینٹ بیچتا ہے۔
سمجھے؟
کریم اور اوبر سواری بیچتے ہیں؟ جی نہیں۔ وہ آپ کو سواری کے لیے پریشان ہونے سے بچنا اور وقت بچانا بیچتے ہیں۔
فوڈ پانڈا کی مثال لے لیجیے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فوڈ پانڈا کھانے کی سروس بیچ رہا ہے! جی نہیں۔ فوڈ پانڈا کھانا نہیں بیچتا، وہ آسانی بیچتا ہے۔ بس گھر بیٹھے سینکڑوں آپشنز میں سے آپشن سلیکٹ کیجیے اور اپنا پسندیدہ کھانا منگوا لیجیے۔ گرمی میں کچن میں کام کرنے سے بچنے کی آسانی، باہر جاکر ٹریفک میں پھنسنے، پھر ریسٹورنٹ میں انتظار کی کوفت سے بچنے کی آسانی، پیمنٹ کرنے کی آسانی۔۔۔
لیکن آپ کو نیٹ فلکس، کریم، اوبر، فوڈ پانڈا بننا ضروری نہیں ہے۔
میں دو مثالوں سے بات سمجھاتا ہوں۔
کراچی میں ایک نوجوان میری ورکشاپ میں آیا، جس کے ساتھ میں نے کام کیا، اس نے دیکھا کہ ریستوران والے برے Google reviews کی وجہ سے کسٹمرز مس کر رہے ہیں۔
میں نے اسے وژن بنانے میں مدد کی اور کہا کہ تم گوگل کی سائنس اچھی سمجھتے ہو تو تم یہ مسئلہ حل کرنے کی بات کرو، جس سے ریسٹورنٹس کے ریویوز بہتر ہوجائیں اور ان کی سیلز میں اضافہ ہو۔
اس نے ایک درمیانے درجے کے ریسٹورنٹ کی آن لائن ساکھ سنبھالنا شروع کر دی۔ اس لڑکے کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں ہے، ایک اسکل ہے جو شاید بہت سے اور لوگوں کے پاس ہوگی، بس اس نے اپنے وژن کو اسکل سے ہٹا کر مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ آج وہ 30 سے زیادہ ریسٹورنٹس کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے ساتھ اپنی اہلیہ کو بھی کام سکھا کر دونوں ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں۔
دبئی میں ایک سنگل مدر سے ملاقات ہوئی۔ ان کی گوگل اور میٹا پر اشتہارات کے حوالے سے اچھی اسکل تھی لیکن کام نہیں کر پارہی تھیں۔
جب ان کے ساتھ میں نے کام کیا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا اشتہارات پر اکثر پیسے ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہوتا۔
ہم نے اپنے وژننگ پروسیس میں یہ کہا کہ آپ گارنٹی کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کریں، یعنی پیسے تبھی دیں جب آپ کو نتیجہ ملے۔ دو مہینوں میں ان کے پاس کام کی لائن لگ گئی۔ الحمد للہ، آج پانچ لوگوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کئی کلائنٹس مینیج کررہی ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی کچھ کلائنٹس کم ضرور ہوئے ہیں لیکن اوور آل صورتحال ٹھیک ہے کیونکہ وہ صرف دبئی یا خلیج تک محدود نہیں ہیں۔ پچھلے دو سال میں ان کو اسکیل کروا کر دیگر خطوں میں بھی کام شروع کروایا جس کا آج فائدہ ہورہا ہے۔
ان لوگوں کے پاس اسکل تھی کیونکہ ہر کوئی اسکل کی بات کررہا ہے لیکن نے میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔
لیکن یہاں وہ بات کہنا ضروری ہے جو میں نے ان کو سمجھائی اور ہر اس شخص سے کہتا ہوں جو میرے پاس آتا ہے، اور یہ بات اکثر لوگ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے:
کمانے کا طریقہ پوچھنے سے پہلے یہ جواب دینا ضروری ہے کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
کمانا ایک ذریعہ ہے۔
اگر آپ کے پاس اپنے بڑے وژن اور پرپز کی کلیرٹی نہیں ہے تو آپ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، کچھ بھی مکمل نہیں کر پائیں گے، اور دو تین مہینوں میں مایوس ہو کر چھوڑ دیں گے۔
یہ وہ پیٹرن ہے جو میں برسوں سے ہزاروں لوگوں میں دیکھ رہا ہوں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذہین نہیں ہوتے۔
وہ سب سے زیادہ کلئیر سوچ والے ہوتے ہیں۔
میری رائے ہے کہ آپ یہ کریں:
پہلے اپنا وژن طے کریں۔ آپ کیا بنا رہے ہیں اور کس کے لیے؟
دیکھیں کہ پیسہ کہاں ضائع ہو رہا ہے، نہ کہ صرف کون سا ہنر سیکھنا ہے۔
سروس یا پروڈکٹ نہیں، نتائج کی بات کریں۔
ثابت قدم رہیں — آپ کا پرپز اور وژن آپ کو مشکل وقت میں جمائے رکھے گا۔
لیکن یہ دونوں چیزیں اگر کلئیر نہیں ہیں تو جیسے ہی کوئی چیلنجز آئیں گے، آپ ہاتھ پاؤں چھوڑ دیں گے۔
آپ کی مالی ترقی میں رکاوٹ اسکل کی کمی نہیں ہے بلکہ کلیرٹی کی کمی ہے۔
آپ کے پاس کون سی ایسی اسکل ہے جسے آپ نے کبھی کسی اصل وژن اور مقصد سے نہیں جوڑا؟ اور آپ فرسٹریشن کا شکار ہورہے ہیں؟
یمین الدین احمد
26
مارچ 2026ء
کراچی، پاکستان۔

 

 

 

دادو: ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے 2 ایم پی ایز سمیت تمام ملزمان بری

  دادو میں ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے پیپلز پارٹی ...