Saturday, March 28, 2026

مائنڈ سیٹ

کیرول ڈویک کی کتاب "مائنڈ سیٹ" دراصل انسانی نفسیات کا ایک شاہکار ہے۔ جب ہم اس کتاب کے شاندار نفسیاتی اصولوں کو قرآنی شعور (فہمِ دین) کی عینک سے دیکھتے ہیں، تو یہ صرف دنیاوی کامیابی کا نسخہ نہیں رہتی، بلکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کا ایک عملی اور آسان راستہ بن جاتی ہے۔

آئیے اس کتاب کے اصل پیغام کو نہایت آسان اردو، دلچسپ مثالوں (Analogies) اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ تفصیل سے سمجھتے ہیں:

مائنڈ سیٹ: کامیابی اور ترقی کی نفسیات کا تفصیلی خلاصہ

کتاب کا بنیادی نچوڑ یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کی پیدائشی ذہانت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی "سوچ کے انداز" (Mindset) سے ہوتا ہے۔ یہ سوچ دو طرح کی ہوتی ہے:

1.
بنیادی تصور: دو طرح کی سوچیں (The Core Concept)

جمود پسند سوچ (Fixed Mindset): یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ذہانت اور خوبیاں پیدائشی ہوتی ہیں اور انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔

ارتقائی سوچ (Growth Mindset): یہ لوگ مانتے ہیں کہ محنت، سیکھنے اور مسلسل کوشش سے کسی بھی صلاحیت کو نکھارا جا سکتا ہے۔

مثال: جمود پسند سوچ ایک "پتھر" کی طرح ہے، جس پر جتنا بھی پانی ڈالیں، وہ اندر سے سوکھا ہی رہتا ہے۔ جبکہ ارتقائی سوچ ایک "بیج" کی طرح ہے، جسے اگر محنت کی مٹی اور توکل کا پانی ملے، تو وہ ایک تناور درخت بن سکتا ہے۔ اللہ نے ہر انسان کے اندر صلاحیتوں کا بیج رکھا ہے، اسے محنت سے درخت بنانا ہمارا کام ہے۔

2.
ناکامی کا اصل مطلب کیا ہے؟ (Meaning of Failure)

جمود پسند سوچ: ان کے لیے ناکامی کا مطلب "ذلت" ہے۔ اگر وہ فیل ہو جائیں تو خود کو نالائق سمجھ کر کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔

ارتقائی سوچ: ان کے لیے ناکامی صرف ایک "سبق" ہے۔ دین میں اسے "آزمائش" کہتے ہیں۔ یہ انہیں بتاتی ہے کہ ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔

مثال : جب ایک چھوٹا بچہ چلنا سیکھتا ہے اور گر پڑتا ہے، تو کیا ہم اسے "ناکام" کہتے ہیں؟ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا گرنا دراصل اس کے چلنے سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ اسی طرح زندگی میں ملنے والی ناکامی ہمیں گر کر دوبارہ اٹھنا سکھاتی ہے۔

3.
محنت کی اہمیت اور توکل (The Power of Effort)

جمود پسند سوچ: یہ لوگ محنت کو کمزوری سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر آپ واقعی ذہین ہیں تو آپ کو محنت کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے۔

ارتقائی سوچ: یہ محنت کو کامیابی کا واحد راستہ مانتے ہیں۔ قرآن بھی یہی سکھاتا ہے کہ "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی"۔

مثال : یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ اپنی گاڑی میں پیٹرول (صلاحیت) تو بھروا لیں، لیکن اسے چلانے (محنت) سے انکار کر دیں۔ ارتقائی سوچ کا مسلمان وہ ہے جو حدیثِ رسول ﷺ کے مطابق "پہلے اونٹ کا گھٹنہ باندھتا ہے (بھرپور محنت) اور پھر اللہ پر توکل کرتا ہے"۔

4.
کھیل، ہنر اور عملی زندگی (Skills and Real Life)

یہ کتاب بتاتی ہے کہ بڑے بڑے ٹیلنٹڈ لوگ صرف اس لیے پیچھے رہ گئے کیونکہ انہوں نے خود کو بہتر بنانا چھوڑ دیا، جبکہ مائیکل جارڈن جیسے عام کھلاڑیوں نے مسلسل پریکٹس سے تاریخ رقم کی۔

مثال: ایک بہترین لوہے کی تلوار (پیدائشی ٹیلنٹ) اگر میان میں پڑی رہے تو اسے زنگ لگ جاتا ہے۔ لیکن ایک عام لوہے کی تلوار کو اگر روزانہ پتھر پر رگڑ کر دھار لگائی جائے (Growth Mindset)، تو وہ میدانِ جنگ میں کمال دکھاتی ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی بھی مسلسل جدوجہد اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا نام ہے تاکہ وہ دین اور دنیا میں بہترین کردار ادا کر سکے۔

5.
کاروبار اور بہترین قیادت (Leadership and Business)

جمود پسند لیڈر: یہ وہ باس ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں، غلطی نہیں مانتے اور تنقید سے چڑتے ہیں (یہ فرعونیت اور تکبر کی علامت ہے)۔

ارتقائی لیڈر: یہ اپنی ٹیم کی بات سنتے ہیں، اپنی غلطی مانتے ہیں اور ادارے کو ایک خاندان کی طرح چلاتے ہیں۔

مثال: ایک مغرور لیڈر اس "پلاسٹک کے درخت" کی طرح ہے جو دیکھنے میں تو بڑا شاندار لگتا ہے، لیکن نہ بڑھتا ہے اور نہ کسی کو پھل دیتا ہے۔ ارتقائی لیڈر ایک "پھل دار درخت" ہے جو جتنا پھل دیتا ہے، اتنا ہی جھک جاتا ہے (تواضع اور شورائیت)۔

6.
رشتے اور تعلقات (Relationships and Marriage)

جمود پسند سوچ: یہ سمجھتے ہیں کہ سچے رشتے خود بخود چلتے ہیں۔ اگر لڑائی ہو جائے تو فوراً رشتہ توڑنے کا سوچتے ہیں۔

ارتقائی سوچ: یہ جانتے ہیں کہ اچھے رشتے کے لیے مسلسل سمجھوتے، معاف کرنے اور بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثال: رشتے ایک "زندہ باغ" کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں روزانہ توجہ، پیار اور درگزر کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ انہیں جنگل کی طرح چھوڑ دیں گے تو ان میں غلط فہمیوں کی جڑی بوٹیاں اگ آئیں گی۔ اسلام کا نظامِ "حقوق العباد" بھی اسی روزانہ کی محنت اور ایثار کا نام ہے۔

7.
بچوں کی صحیح تربیت کیسے کریں؟ (Parenting and Tarbiyah)
ہمیں بچوں کے ذہن کیسے بنانے چاہئیں؟

غلط طریقہ: بچے سے کہنا "تم تو پیدائشی جینئس ہو"۔ اس سے بچہ مغرور ہو جاتا ہے اور مشکل کام سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کا 'جینئس' ہونے کا ٹیگ نہ اتر جائے۔

صحیح طریقہ: بچے کی محنت اور نیت کی تعریف کریں۔ اسے کہیں، "تم نے اس مشکل سوال کو حل کرنے کے لیے جو مسلسل محنت کی ہے، مجھے اس پر فخر ہے۔"

8.
اپنی سوچ کو کیسے بدلیں؟ (The Journey of Change)

اپنے اندر موجود منفی اور جمود پسند سوچ کو ارتقائی سوچ میں بدلنے کا عمل دراصل اسلام میں "تزکیہ نفس" (خود کو پاک کرنے) کا عمل کہلاتا ہے:

پہچانیں: مان لیں کہ ہم سب کے اندر کہیں نہ کہیں مایوسی یا سستی موجود ہے۔

غور کریں: دیکھیں کہ وہ کون سا وقت ہوتا ہے جب آپ کا دل کہتا ہے "مجھ سے یہ نہیں ہوگا"۔

جواب دیں: جب اندر کی آواز آپ کو ڈرائے، تو اسے بتائیں: "میں یہ کام ابھی نہیں کر سکتا، لیکن میں محنت کروں گا، سیکھوں گا اور اللہ میرے لیے راستے کھول دے گا۔"

یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ آپ کا دماغ اور آپ کی صلاحیتیں کسی لوہے کے ڈبے میں بند نہیں ہیں۔ یہ ایک پٹھے (Muscle) کی طرح ہیں؛ جتنا آپ انہیں چیلنج کریں گے، محنت کریں گے اور سیکھیں گے، یہ اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ ارتقائی سوچ (Growth Mindset) اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر سکے اور دنیا میں ایک بہترین اور کارآمد انسان بن کر جیے۔


Friday, March 27, 2026

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

 

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

ذیل کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے ،یہ بالکل درست بات ہے ،اکثر اداروں میں مالکان مسائل کا حل چاہتے ہیں ،وہ کسی جھنجھٹ  میں نہیں پڑنا چاہتے،وہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ سکون سے ہو ،اور جو فرد اس طرح کام کرکے دیتا ہے ،اسی کی دھاک بیٹھتی ہے۔

o      مہارت کافی نہیں، مسئلہ حل کرنا ہی اصل کامیابی ہے
لوگ کام کے نہیں، نتائج کے پیسے دیتے ہیں

o      پہچان ویلیو ایڈ کرنے سے بنتی ہے اسکل سے نہیں۔

o      پروڈکٹ نہیں،حل بیچو— کامیابی خود آئے گی۔

o      Netflix سے Foodpanda تک: کامیابی کا راز’ آسانی بیچنے میں ہے۔

o       کام جاننے والے بہت، نتیجہ دینے والے کم

o      اصل کھیل اسکل کا نہیں، رزلٹ کا ہے

o      جو مسئلہ حل کرے گا، وہی کمائے گا

o      کلیرٹی نہیں تو کمائی نہیں — پروفیشنل دنیا کا اصول

o      “Skill سیکھو نہیں، Result دینا سیکھو

o      اہم یہ نہیں ہے کہ آپ نے کوئی اسکل سیکھ لی ہے،اہم یہ ہے کہ آپ جس فیلڈ میں ہیں اس کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت آپ میں ہے یا نہیں۔

o      ہم اسکل تو سیکھ لیتے ہیں مگر مسئلہ حل کرنا نہیں سیکھتے۔

o       کتنے ایسے افراد ہیں جوزیادہ اسکلڈ نہیں مگر اپنی فیلڈ میں 25 سال سے کام کررہے ہیں ۔

o      Netflix، Uber، Careem اور Foodpanda پروڈکٹ نہیں بلکہ آسانی، سکون اور مسئلے کا حل بیچتے ہیں۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ آپ چیز نہیں بیچتے، بلکہ لوگوں کی زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ لوگ پروڈکٹ نہیں خریدتے، بلکہ اپنی مسئلے کا حل اور آسانی خریدتے ہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں نہیں، بلکہ کس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔

o      یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔

o      میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔

پروفیشنل دنیا میں کامیابی صرف اسکل (Skill) سے نہیں، بلکہ ”رزلٹ دینے کی صلاحیت اور اعتماد کے ساتھ کمیٹمنٹ “سے آتی ہے۔

اصل سبق (Professional Insight) :

کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو صرف یہ کہیں:
میں یہ کام کرنا جانتا ہوں

بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ کہیں:
میں آپ کو یہ نتیجہ دے سکتا ہوں

اس میں چھپا بڑا اصول:

·         اسکل = آپ کیا کر سکتے ہو

·         رزلٹ = آپ کس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو

👉 دنیا اسکل نہیں، رزلٹ خریدتی ہے

پروفیشنل لائف کے لیے مین ٹیک اوے:

1.    Value-based بات کرو، Skill-based نہیں

o        ”میں Facebook ads چلاتا ہوں کمزور بات ہے

o        ”میں آپ کے leads 5x کر سکتا ہوںمضبوط بات ہے

2.    Confidence + Clarity = Trust
جو شخص واضح نمبر اور outcome بتاتا ہے، اس پر لوگ زیادہ اعتماد کرتے ہیں

3.    Problem solver بنو، Worker نہیں
کامیاب لوگ task نہیں کرتے، result solve کرتے ہیں

4.    Measurable impact دو
جتنا measurable ہوگا (10 50 leads)، اتنی credibility بڑھے گی


ایک لائن میں خلاصہ:

اسکل تمہیں کام دلائے گی، مگر Result تمہیں کامیاب بنائے گا۔

یہی اصل پروفیشنل مائنڈسیٹ ہے۔


صرف مہارت رکھنا کامیابی کی ضمانت نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی مہارت سے ادارے کے لیے کتنی قدر (Value) پیدا کرتے ہیں۔


مزید چند زبردست متبادل:

1.    اسکل ہونا اہم ہے، مگر اس سے ادارے کو فائدہ پہنچانا اصل کامیابی ہے۔

2.    آپ کی قابلیت نہیں، بلکہ آپ کی ویلیو ایڈ ہی آپ کی اصل پہچان بنتی ہے۔

3.    کام جاننا کافی نہیں، کام کا اثر دکھانا ضروری ہے۔

4.    پیشہ ور وہ نہیں جو کام کرے، بلکہ وہ ہے جو نتیجہ دے۔


ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مجھ سے انباکس میں یہی سوال پوچھتا ہے:
"
حالات بگڑتے جارہے ہیں، مہنگائی بے قابو ہورہی ہے، میں کون سا کام کروں تاکہ اپنی آمدنی بڑھا سکوں؟"
اور پچھلے کچھ ہفتوں میں، جب سے مڈل ایسٹ میں جنگ کی وجہ سے حالات غیر یقینی ہوئے ہیں، یہ سوال اور بھی زیادہ آنے لگا ہے۔
میرا جواب سن کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں۔
دیکھیے، میں یہ نہیں بتاتا کہ کون سا کام کریں یا سیکھیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔
صحیح سوال یہ نہیں ہے کہ "کون سا کام سیکھا اور کیا جائے؟"
صحیح سوال یہ ہے کہ "لوگ پہلے سے کہاں پیسے خرچ کر رہے ہیں اور انہیں اس کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے؟"
جب میں یہ بات سمجھاتا ہوں تو پہلے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں، پھر دماغ کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، یا کوئی اور اسکلز سیکھ لیں گے تو کلائنٹ خود آ جائیں گے اور ہم چند مہینوں میں اچھا کمانا شروع کردیں گے۔
لوگ مہینوں محنت کرتے ہیں، کوئی اسکل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیکھ بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی سروسز بیچ نہیں پاتے۔
کیونکہ انہوں نے غلطی یہ کی ہے کہ انہوں نے ایک اسکل سیکھ لی ہے، لیکن مسئلے کو حل کرنا نہیں سیکھا۔
مجھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب 23 برس ہوگئے ہیں اور میں نے جتنے کامیاب لوگ دیکھے ہیں، جن کے ساتھ کام کیا ہے، وہ عام طور پہ سب سے زیادہ اسکلڈ لوگ نہیں ہوتے ہیں۔
بلکہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں:
"
میر کام کے نتیجے میں آپ کی لیڈز میں اضافہ ہوجائے گا، یعنی اگر اس وقت روزانہ 10 انکوائریز آرہی ہیں تو میرے کام کے نتیجے میں آئندہ دو سے تین ماہ 50 انکوائریز آنی شروع ہوجائیں گی۔"
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی کسٹمر کمپلینز میں 40 فیصد کمی" واقع ہوگی۔ "
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی اکاؤنٹنگ اور بک کیپنگ آسان" ہوجائے گی اور آپ کے روزانہ دو سے تین گھنٹے بچیں گے۔"
یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔
آپ میں سے اکثر لوگ نیٹ فلکس کو جا تے ہیں۔ نیٹ فلکس آپ کو موویز نہیں بیچتا، وہ بوریت کا حل بیچتا ہے۔ ریلیکس ہونا بیچتا ہے، آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں، وہ انجوائمینٹ بیچتا ہے۔
سمجھے؟
کریم اور اوبر سواری بیچتے ہیں؟ جی نہیں۔ وہ آپ کو سواری کے لیے پریشان ہونے سے بچنا اور وقت بچانا بیچتے ہیں۔
فوڈ پانڈا کی مثال لے لیجیے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فوڈ پانڈا کھانے کی سروس بیچ رہا ہے! جی نہیں۔ فوڈ پانڈا کھانا نہیں بیچتا، وہ آسانی بیچتا ہے۔ بس گھر بیٹھے سینکڑوں آپشنز میں سے آپشن سلیکٹ کیجیے اور اپنا پسندیدہ کھانا منگوا لیجیے۔ گرمی میں کچن میں کام کرنے سے بچنے کی آسانی، باہر جاکر ٹریفک میں پھنسنے، پھر ریسٹورنٹ میں انتظار کی کوفت سے بچنے کی آسانی، پیمنٹ کرنے کی آسانی۔۔۔
لیکن آپ کو نیٹ فلکس، کریم، اوبر، فوڈ پانڈا بننا ضروری نہیں ہے۔
میں دو مثالوں سے بات سمجھاتا ہوں۔
کراچی میں ایک نوجوان میری ورکشاپ میں آیا، جس کے ساتھ میں نے کام کیا، اس نے دیکھا کہ ریستوران والے برے Google reviews کی وجہ سے کسٹمرز مس کر رہے ہیں۔
میں نے اسے وژن بنانے میں مدد کی اور کہا کہ تم گوگل کی سائنس اچھی سمجھتے ہو تو تم یہ مسئلہ حل کرنے کی بات کرو، جس سے ریسٹورنٹس کے ریویوز بہتر ہوجائیں اور ان کی سیلز میں اضافہ ہو۔
اس نے ایک درمیانے درجے کے ریسٹورنٹ کی آن لائن ساکھ سنبھالنا شروع کر دی۔ اس لڑکے کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں ہے، ایک اسکل ہے جو شاید بہت سے اور لوگوں کے پاس ہوگی، بس اس نے اپنے وژن کو اسکل سے ہٹا کر مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ آج وہ 30 سے زیادہ ریسٹورنٹس کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے ساتھ اپنی اہلیہ کو بھی کام سکھا کر دونوں ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں۔
دبئی میں ایک سنگل مدر سے ملاقات ہوئی۔ ان کی گوگل اور میٹا پر اشتہارات کے حوالے سے اچھی اسکل تھی لیکن کام نہیں کر پارہی تھیں۔
جب ان کے ساتھ میں نے کام کیا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا اشتہارات پر اکثر پیسے ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہوتا۔
ہم نے اپنے وژننگ پروسیس میں یہ کہا کہ آپ گارنٹی کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کریں، یعنی پیسے تبھی دیں جب آپ کو نتیجہ ملے۔ دو مہینوں میں ان کے پاس کام کی لائن لگ گئی۔ الحمد للہ، آج پانچ لوگوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کئی کلائنٹس مینیج کررہی ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی کچھ کلائنٹس کم ضرور ہوئے ہیں لیکن اوور آل صورتحال ٹھیک ہے کیونکہ وہ صرف دبئی یا خلیج تک محدود نہیں ہیں۔ پچھلے دو سال میں ان کو اسکیل کروا کر دیگر خطوں میں بھی کام شروع کروایا جس کا آج فائدہ ہورہا ہے۔
ان لوگوں کے پاس اسکل تھی کیونکہ ہر کوئی اسکل کی بات کررہا ہے لیکن نے میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔
لیکن یہاں وہ بات کہنا ضروری ہے جو میں نے ان کو سمجھائی اور ہر اس شخص سے کہتا ہوں جو میرے پاس آتا ہے، اور یہ بات اکثر لوگ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے:
کمانے کا طریقہ پوچھنے سے پہلے یہ جواب دینا ضروری ہے کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
کمانا ایک ذریعہ ہے۔
اگر آپ کے پاس اپنے بڑے وژن اور پرپز کی کلیرٹی نہیں ہے تو آپ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، کچھ بھی مکمل نہیں کر پائیں گے، اور دو تین مہینوں میں مایوس ہو کر چھوڑ دیں گے۔
یہ وہ پیٹرن ہے جو میں برسوں سے ہزاروں لوگوں میں دیکھ رہا ہوں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذہین نہیں ہوتے۔
وہ سب سے زیادہ کلئیر سوچ والے ہوتے ہیں۔
میری رائے ہے کہ آپ یہ کریں:
پہلے اپنا وژن طے کریں۔ آپ کیا بنا رہے ہیں اور کس کے لیے؟
دیکھیں کہ پیسہ کہاں ضائع ہو رہا ہے، نہ کہ صرف کون سا ہنر سیکھنا ہے۔
سروس یا پروڈکٹ نہیں، نتائج کی بات کریں۔
ثابت قدم رہیں — آپ کا پرپز اور وژن آپ کو مشکل وقت میں جمائے رکھے گا۔
لیکن یہ دونوں چیزیں اگر کلئیر نہیں ہیں تو جیسے ہی کوئی چیلنجز آئیں گے، آپ ہاتھ پاؤں چھوڑ دیں گے۔
آپ کی مالی ترقی میں رکاوٹ اسکل کی کمی نہیں ہے بلکہ کلیرٹی کی کمی ہے۔
آپ کے پاس کون سی ایسی اسکل ہے جسے آپ نے کبھی کسی اصل وژن اور مقصد سے نہیں جوڑا؟ اور آپ فرسٹریشن کا شکار ہورہے ہیں؟
یمین الدین احمد
26
مارچ 2026ء
کراچی، پاکستان۔

 

 

 

Wednesday, November 25, 2020

ماہی گیر

تحریر--------- سعادت حسن منٹو
(فرانسیفک شاعر وکٹر ہوٹگو کی ایک نظم کے تاثرات)
سمندر رو رہا تھا۔ مقدر لہریں پتھریلے ساحل کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر آہ و زاری کر رہی تھیں۔ دور۔۔۔۔۔۔پانی کی رقصاں سطح پر چند کشتا ں اپنے دھندلے اور کمزور بادبانوں کے سہارے بے پناہ سردی سے ٹھٹھری ہوئی کانپ رہی تھںر۔ آسمان کی نی س قبا مںی چاند کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ ستاروں کا کھت اپنے پورے جوبن مںک لہلہا رہا تھا۔۔۔۔۔۔فضا سمندر کے نمکنو پانی کی تز بو مںی بسی ہوئی تھی۔ ساحل سے کچھ فاصلے پر چند شکستہ جھونپڑیاں خاموش زبان مںن ایک دوسرے سے اپنی خستہ حالی کا تذکرہ کر رہی تھں۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ماہی گر وں کے سر چھپانے کی جگہ تھی۔ ایک جھونپڑی کا دروازہ کھلا تھا جس مں چاند کی آوارہ شعاعںپ زمنم پر رینگ رینگ کر اس کی کاجل اییے فضا کو نمہ روشن کر رہی تھں۔۔ اس اندھی روشنی مںع دیوار پر ماہی گرپ کا جال نظر آرہا تھا اور ایک چوبی تختے پر چند تھالابں جھلملا رہی تھںر۔ جھونپڑی کے کونے مںے ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی، تاریک چادروں مں ملبوس اندھرکے مںو سر نکالے ہوئے تھی۔ اس کے پہلو مں پھٹے ہوئے ٹاٹ پر پانچ بچے محوِ خواب تھے۔۔۔۔۔۔۔ننھی روحوں کا ایک گھونسلا جو خوابوں سے تھر تھرا رہا تھا۔ پاس ہی انکی ماں نہ معلوم کن خاشلات مںا مستغرق گھٹنوں کے بل بیھ پ گنگنا رہی تھی۔ یکایک وہ لہروں کا شور سن کر چونکی۔۔۔۔بوڑھا سمندر کسی آنے والے خطرے سے آگاہ، سایہ چٹانوں، تند ہواں اور نصف شب کی تارییم کو مخاطب کرکے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور بچوں کے پاس جا کر ہر ایک کی پشامنی پر اپنے سرد لبوں سے بوسہ دیا اور وہںد ٹاٹ کے ایک کونے مںں بٹھی کر دعا مانگنے لگی۔ لہروں کے شور مںپ یہ الفاظ بخوبی سنائی دے رہے تھے۔
"
اے خدا۔۔۔۔۔اے بکسوکں اور غریبوں کے خدا، ان بچوں کا واحد سہارا، رات کا کفن اوڑھے سمندر کی لہروں کے ساتھ کھل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔موت کے عمق گڑھے پر پاں لٹکائے ہے۔۔۔۔۔۔صرف انکی خاطر وہ ہر روز اس دیو کے ساتھ کشتی لڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اے خدا تو اسکی جان حفاظت مںھ رکھوا۔۔۔۔۔۔۔آہ، اگر یہ صرف نوجوان ہوتے، اگر یہ صرف اپنے والد کی مدد کر سکتے۔"
یہ کہہ کر خدا معلوم اسے کاے خایل آیا کہ وہ سر سے پر" تک کانپ گئی۔ اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھرتھراتی ہوئی آواز مں۔ کہنے لگی۔ "بڑے ہو کر انکا بھی یی شغل ہوگا، پھر مجھے چھ جانوں کا خدشہ لاحق رہے گا۔۔۔۔۔۔۔آہ کچھ سمجھ مںہ نہںو آتا۔ غربت، غربت۔"
یہ کہتے ہوئے وہ اپنی غربت اور تنگ دامانی کے خا لات مںک غرق ہوگئی۔ دفعتاً وہ اس اندھرتے خواب سے بدرار ہوئی اور اس کے دماغ مںی ہوٹلوں کی دیو قامت عمارتںل اور امرا کے راحت کدوں کی تصویریں کھچ گئںا۔ ان عمارتوں کی دلفریب راحتوں اور امرا کی تعشر پرستواں کا خایل آتے ہی اس کے دل پر ایک دھند سی چھا گئی۔ کلجےے پر کسی غرح مرئی ہاتھ کی گرفت محسوس کرکے وہ جلدی سے اٹھی اور دروازے سے تارییب مںی آوارہ نظروں سے دیکھنا شروع کای۔
اسکی یہ حرکت خاہلات کی آمد کو نہ روک سکی۔ وہ سخت حر ان تھی کہ لوگ امرا اور غریب کواں ہوتے ہں جبکہ ہر انسان ایک ہی طرح ماں کے پٹ سے پد ا ہوتا ہے۔ اس سوال کے حل کےیدو اس نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔ ایک اور چزی جو اسے پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ جب اسکا خاوند اپنی جان پر کھل کر سمندر کی گود سے مچھلایں چھنا کر لاتا ہے تو کاآ وجہ ہے کہ مارکٹ کا مالک بغر محنت کئے ہر روز سنکڑاوں روپے پداا کر لتاا ہے۔ اسے یہ بات خاص طور پر عجبی سی معلوم ہوئی کہ محنت تو کریں ماہی گرے اور نفع ہو مارکٹک کے مالک کو۔ رات بھر اسکا خاوند اپنا خون پسنہئ ایک کردے اور صبح کے وقت آدھی کمائی اسکی بڑی توند مں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان تمام سوالوں کا کچھ جواب نہ پا کر وہ ہنس پڑی اور بلند آواز مں کہنے لگی۔
"
مجھ کم عقل کو بھلا کاک معلوم۔ یہ سب کچھ خدا جانتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس کے بعد وہ کچھ کہنے والی تھی کہ کانپ اٹھی۔ "اے خدا مںس گنہگار ہوں، تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔۔۔۔۔ایسا خامل کرنا کفر ہے۔"
یہ کہتی ہوئی وہ خاموشی سے اپنے بچوں کے پاس آکر بٹھا گئی اور انکے معصوم چہروں کی طرف دیکھ کر بے اختاسر رونا شروع کردیا۔
باہر آسمان پر کالے بادل مہب ڈائنوں کی صورت مںں اپنے ساےہ بال پریشان کئے چکر کاٹ رہے تھے۔ کبھی کیھت اگر کوئی بادل کا ٹکڑا چاند کے درخشاں رخسار پر اپنی سائہی مل دیتا تو فضا پر قبر کی تارییم چھا جاتی۔ سمندر کی سں ب لہریں گہرے رنگ کی چادر اوڑھ لں ب اور کشتورں کے مستولوں پر ٹمٹماتی ہوئی روشناعں اس اچانک تبدیی کو دیکھ کر آنکھںا جھپکنا شروع کر دیںکا۔
ماہی گرل کی بویی نے اپنے ملےد آنچل سے آنسو خشک کئے اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دیکھنے لگی کہ آیا دن طلوع ہوا ہے یا نہںں۔ کوپنکہ اس کا خاوند طلوع کی پہلی کرن کے ساتھ ہی گھر واپس آ جایا کرتا تھا مگر صبح کا ایک سانس بھی بدوار نہ ہوا تھا۔ سمندر کی تاریک سطح پر روشنی کی ایک دھاری بھی نظر نہ آ رہی تھی۔ بارش کاجل کی طرح تمام فضا پر برس رہی تھی۔
وہ بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑی اپنے خاوند کے خایل مںی مستغرق رہی۔ جو اس بارش مںم سمندر کی تند موجوں کے مقابلے مںش لکڑی کے ایک معمولی تختے اور کمزور بادبان سے مسلح تھا۔ وہ ابھی اسکی عافتی کےیچل دعا مانگ رہی تھی کہ یکایک اس کی نگاہںط اندھراے مںو ایک شکستہ جھونپڑی کی طرف اٹھںھ، جو تاروں سے محروم آسمان کی طرف ہاتھ پھلا ئے لرز رہی تھی۔ اس جھونپڑی مںک روشنی کا نام تک نہ تھا۔ کمزور دروازہ کسی نا معلوم خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ تنکوں کی چھت ہوا کے دبا تلے دوہری ہو رہی تھی۔
"
آہ، خدا معلوم بچائری بورہ کا کا۔ حال ہے۔۔۔۔۔۔اسے کئی روز سے بخار آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ماہی گرو کی بو،ی زیرِ لب بڑبڑائی اور یہ خاال کرتے ہوئے کہ شاید کسی روز وہ بھی اپنے خاوند سے محروم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔کانپ اٹھی۔
وہ شکستہ جھونپڑی ایک بوبہ کی تھی جو اپنے دو کم سن بچوں سمتن روٹی کے قحط مں۔ موت کی گھڑیاں کاٹ رہی تھی۔ مصبتر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ مںو اس پر کوئی سایہ کرنے والا نہ تھا۔ رہا سہا سہارا دو ننھے بچے تھے جو ابھی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔
ماہی گرم کی بوبی کے دل مںے ہمدردی کا جذبہ امڈا۔ بارش سے بچا کے لے سر پر ٹاٹ کا ایک ٹکڑا رکھ کر اور ایک اندھی لالٹنن روشن کرنے کے بعد وہ جھونپڑی کے پاس پہنچی اور دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لہروں کا شور اور تزل ہواں کی چخ پکار اس دستک کا جواب تھے، وہ کانپی اور خارل کای کہ شاید اس کی اچھی ہمسائی گہری نندک سو رہی ہے۔
اس نے ایک بار پھر آواز دی، دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب پھر خاموشی تھا۔۔۔۔۔۔کوئی صدا، کوئی جواب اس جھونپڑی کے بوسدہہ لبوں سے نمودار نہ ہوا۔ یکایک دروازہ، جسے اس بے جان چزئ نے رحم کی لہر محسوس کی، متحرک ہوا اور کھل گای۔
ماہی گرن کی بوری جھونپڑی کے اندر داخل ہوئی اور اس خاموش قبر کو اپنی اندھی لالٹنڑ سے روشن کر دیا، جس مںس لہروں کے شور کے سوا مکمل سکوت طاری تھا۔ پتلی چھت سے بارش کے قطرے بڑے بڑے آنسوں کی صورت مںو ساجہ زمن کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا مںب ایک مہبن خوف سانس لے رہا تھا۔
ماہی گرڑ کی بوری اس خوفناک سماں کو دیکھ کر جو جھونپڑی مںا سمٹا ہوا تھا سر تا پا ارتعاش بن کر رہ گئی۔ آنکھوں مںا گرم گرم آنسو چھلکے اور بے اختاار اچھل کر بارش کے ٹپکے ہوئے قطروں کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور دردناک آواز مںڑ کہنے لگی۔
"
آہ۔۔۔۔۔تو ان بوسوں کا جو جسم کو راحت بخشتے ہں ، ماں کی محبت، گت ، تبسم، ہنسی اور ناچ کا ایک ہی انجام ہے۔۔۔۔۔۔۔یینی قبر۔۔۔۔۔۔۔آہ مردے خدا۔"
اس کے سامنے پھوس کے بستر پر بو ہ کی سرد لاش اکڑی ہوئی تھی اور اس کے پہلو مںا دو بچے محو خواب تھے۔ لاش کے سنےی مںط ایک آہ کچھ کہنے کو رکی ہوئی تھی۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھںس جھونپڑی کی خستہ چھت کو چرہ کر تاریک آسمان کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہی تھں ، جسے انہںک کچھ پغاکم دینا ہے۔
ماہی گرک کی بوای اس وحشت خزو منظر کو دیکھ کر چلا اٹھی۔ تھوڑی دیر دیوانہ وار ادھر ادھر گھومی۔ یکایک اس کی نمناک آنکھوں مںد ایک چمک پدیا ہوئی، اور اس نے لپک کر لاش کے پہلو سے کچھ چزر اٹھا کر اپنی چادر مں لپٹز لی اور اس دار الخطر سے لڑکھڑاتی ہوئی اپنی جھونپڑی مںم چلی آئی۔
چہرے کے بدلے ہوئے رنگ اور لرزاں ہاتھوں سے اس نے اپنی جھولی کو ملےن بستر پر خالی کر دیا اور اس پر پھٹی ہوئی چادر ڈال دی۔ تھوڑی دیر بو ہ سے چھیمں ہوئی چز کی طرف دیکھ کر وہ اپنے بچوں کے پاس زمنل پر بٹھے گئی۔
مطلع سمندر کے افق پر سپدم ہو رہا تھا۔ سورج کی دھندلی شعاعںے تارییک کا تعاقب کر رہی تھںا۔ ماہی گرں کی بویی بیھس اپنے احساسِ جرم کے شکستہ تار چھڑر رہی تھی۔ ان غر۔ مربوط الفاظ کے ساتھ کن سری لہریں اپنی مغموم تانںو چھڑی رہی تھںا۔
"
آہ مںس نے بہت برا کاو۔ اب اگر وہ مجھے مارے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔۔۔۔یہ بھی عجبی ہے کہ مںی اس سے خائف ہوں جس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔کا واپس چھوڑ آں۔۔۔۔۔۔نہںا۔۔۔۔۔۔شاید وہ مجھے معاف کردے۔"
وہ اسی قسم کے خاکلات مں۔ غلطاں و پچا ں بیھک ہوئی تھی کہ ہوا کے زور سے دروازہ ہلا۔ یہ دیکھر اسکا کلجہب دھک سے رہ گا ، وہ اٹھی اور کسی کو نہ پا کر وہںا متفکر بٹھ گئی۔
"
ابھی نہںے۔۔۔۔۔۔۔بچافرہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ان بچوں کےرہ کتنی تکلفد اٹھانی پڑتی ہے۔ اکلےی آدمی کو سات پٹر پالنے پڑتے ہں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ شور کاک ہے؟"
یہ آواز چیتکن ہوئی ہوا کی تھی جو جھونپڑی کے ساتھ رگڑ کر گزر رہی تھی۔
"
اس کے قدموں کی چاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ نہںں ہوا ہے۔" یہ کہہ کر وہ پھر اپنے اندرونی غم مںا ڈوب گئی۔ اب اس کے کانوں مںک ہوا اور لہروں کا شور مفقود ہوگاے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنے مں۔ خاہلات کے تصادم کا کای کم شور تھا۔
آبی جانور ساحل کے آس پاس چلا رہے تھے۔ پانی مںا گھسے ہوئے سنگریزے ایک دوسرے سے ٹکرا کر کھنکھنا رہے تھے۔ کشتی کے چپوں کی آواز صبح کی خاموش فضا کو مرتعش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماہی گرں کی بوای کشتی کی آمد سے بے خبر اپنے خاالات مںی کھوئی ہوئی تھی۔
دفعتاً دروازہ ایک شور کے ساتھ کھلا۔۔۔۔۔۔صبح کی دھندلی شعاعںش جھونپڑی مںد تررتی ہوئی داخل ہوئںے، ساتھ ہی ماہی گرں کاندھوں پر ایک بڑا سا جال ڈالے دہلزک پر نمودار ہوا۔
اس کے کپڑے رات کی بارش اور سمندر کے نمکن۔ پانی سے شرابور ہو رہے تھے۔ آنکھںن شب بدواری کی وجہ سے اندر کو دھنسی ہوئی تھں ۔ جسم سردی اور غرا معمولی مشقت سے اکڑا ہوا تھا۔
"
نسمک کے ابا، تم ہو۔" ماہی گر۔ کی بو ی چونک اٹھی اور عاشقانہ بتاپبی سے اپنے خاوند کو چھاتی سے لگا لا۔۔
"
ہاں مںق ہوں پا ری"
یہ کہتے ہوئے ماہی گر۔ کے کشادہ مگر مغموم چہرے پر مسرت کی ایک دھندلی روشنی چھا گئی۔ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔بولی کی محبت نے اس کے دل سے رات کی کلفت کا خاکل محو کر دیا۔
"
موسم کسا۔ تھا؟" بوکی نے محبت بھرے لہجے مں دریافت کاٹ۔
"
تند"
"
مچھلاکں ہاتھ آئںق؟"
"
بہت کم۔۔۔۔۔آج رات تو سمندر قزاقوں کے گروہ کی مانند تھا۔"
یہ سن کر اس کی بو ی کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ماہی گرش نے اسے مغموم دیکھا اور مسکرا کر بولا۔
"
تو مرکے پہلو مں ہے۔۔۔۔۔۔مرےا دل خوش ہے۔"
"
ہوا تو بہت تز ہوگی؟"
"
بہت تزم، معلوم ہو رہا تھا کہ دناو کہ تمام شطاہن مل کر اپنے منحوس پر پھڑ پھڑا رہے ہںت۔ جال ٹوٹ گاش۔ رساتں کٹ گئںے اور کشتی کا منہ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔" پھر اس گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے بولا۔ "مگر تم شب بھر کا کرتی رہی ہو پاھری؟"
بولی کسی چز کا خاال کرکے کانپی اور لرزاں آواز مںر جواب دیا۔ "مں ۔۔۔۔۔۔آہ کچھ بھی نہںش۔۔۔۔۔۔۔سیہی پروتی رہی، تمھاری راہ تکتی رہی۔۔۔۔۔۔۔لہریں بجلی کی طرح کڑک رہی تھں ، مجھے سخت ڈر لگ رہا تھا۔"
"
ڈر۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"
اور ہاں، ہماری ہمسایہ بوتہ مر گئی ہے۔" بوآی نے اپنے خاوند کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
ماہی گرو نے یہ دردناک خبر سنی مگر اسے کچھ تعجب نہ ہوا۔ شاید اس لے کہ وہ ہر گھڑی اس عورت کی موت کی خبر سننے کا متوقع تھا۔ اس نے آہ بھری اور صرف اتنا کہا۔ "بچا ری سدھار گئی ہے۔"
"
ہاں اور دو بچے چھوڑ گئی ہے جو لاش کے پہلو مںم لٹےع ہوئے ہںآ۔"
یہ سن کر ماہی گرگ کا جسم زور سے کانپا اور اس کی صورت سنجدئہ و متفکر ہوگئی۔ ایک کونے مںا اپنی اونی ٹوپی، جو پانی سے بھگٹ رہی تھی، پھنکہ کر سر کھجلایا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آپ سے بولا۔
"
پانچ بچے تھے، اب سات ہوگئے ہںت۔۔۔۔۔۔اس سے پشترق ہی اس تند موسم مںہ ہمںر دو وقت کا کھانا نصبہ نہں، ہوتا تھا۔ اب مگر خر ۔۔۔۔یہ مرنا قصور نہںا۔ اس قسم کے حوادث بہت گہرے معانی رکھتے ہںی۔"
وہ کچھ عرصے تک اسی طرح اپنا سر گھٹنوں مں۔ دبائے سوچتا رہا۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ خدا نے ان بچوں سے جو اس کی مٹھی کے برابر بھی نہںل ہںہ، ماں کووں چھنں لی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بچوں سے جو نہ کام کر سکتے ہںم اور نہ ہی کسی چزآ کی خواہش ہی کر سکتے ہں ۔۔۔۔۔۔اسکا دماغ ان سوالوں کا کوئی حل نہ پشا کر سکا۔ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا۔
"
شاید اییں چزنوں کو ایک پڑھا لکھا ہی سمجھ سکتا ہے۔" اور پھر اپنی بوںی سے مخاطب ہو کر بولا۔ "پاپری جا انہںت یہاں لے آ۔ وہ کس قدر وحشت زدہ ہونگے اگر وہ صبح اپنی ماں کی لاش کے پاس بد ار ہوئے۔۔۔۔۔۔۔انکی ماں کی روح سخت بے قرار ہوگی، جا انھںو ابھی لکرے آ۔"
یہ کہہ کر وہ سوچنے لگا کہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالے گا۔ وہ بڑے ہو کر اس کے گھٹنوں پر چڑھنا سکھا جائنگے ۔ خدا ان اجنبوپں کو جھونپڑی مں دیکھ کر بہت خوش ہوگا اور انھںہ زیادہ کھانے کو عطا کرے گا۔
"
تمھںم فکر نہںگ کرنی چاہئےر پاکری۔۔۔۔۔۔۔مں زیادہ محنت سے کام کروں گا۔" اور پھر اپنی بوای کو چارپائی کی طرف روانہ ہوتے دیکھ کر بلند آواز مں کہنے لگا۔ "مگر تم سوچ کا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔اس دھیر چال سے نہں چلنا چاہئے تمھںر۔"
ماہی گرن کی بوری نے چارپائی کے پاس پہنچ کر چادر کو الٹ دیا۔
"
وہ تو یہ ہںر۔"
دو بچے صبح کی طرح مسکرا رہے تھے۔ (یکم فروری )1935 ) ماہی گرم

مائنڈ سیٹ

کیرول ڈویک کی کتاب "مائنڈ سیٹ" دراصل انسانی نفسیات کا ایک شاہکار ہے۔ جب ہم اس کتاب کے شاندار نفسیاتی اصولوں کو قرآنی شعور (فہمِ دی...