Friday, March 27, 2026

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

 

اسکل نہیں، رزلٹ بکتا ہے —

ذیل کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے ،یہ بالکل درست بات ہے ،اکثر اداروں میں مالکان مسائل کا حل چاہتے ہیں ،وہ کسی جھنجھٹ  میں نہیں پڑنا چاہتے،وہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ سکون سے ہو ،اور جو فرد اس طرح کام کرکے دیتا ہے ،اسی کی دھاک بیٹھتی ہے۔

o      مہارت کافی نہیں، مسئلہ حل کرنا ہی اصل کامیابی ہے
لوگ کام کے نہیں، نتائج کے پیسے دیتے ہیں

o      پہچان ویلیو ایڈ کرنے سے بنتی ہے اسکل سے نہیں۔

o      پروڈکٹ نہیں،حل بیچو— کامیابی خود آئے گی۔

o      Netflix سے Foodpanda تک: کامیابی کا راز’ آسانی بیچنے میں ہے۔

o       کام جاننے والے بہت، نتیجہ دینے والے کم

o      اصل کھیل اسکل کا نہیں، رزلٹ کا ہے

o      جو مسئلہ حل کرے گا، وہی کمائے گا

o      کلیرٹی نہیں تو کمائی نہیں — پروفیشنل دنیا کا اصول

o      “Skill سیکھو نہیں، Result دینا سیکھو

o      اہم یہ نہیں ہے کہ آپ نے کوئی اسکل سیکھ لی ہے،اہم یہ ہے کہ آپ جس فیلڈ میں ہیں اس کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت آپ میں ہے یا نہیں۔

o      ہم اسکل تو سیکھ لیتے ہیں مگر مسئلہ حل کرنا نہیں سیکھتے۔

o       کتنے ایسے افراد ہیں جوزیادہ اسکلڈ نہیں مگر اپنی فیلڈ میں 25 سال سے کام کررہے ہیں ۔

o      Netflix، Uber، Careem اور Foodpanda پروڈکٹ نہیں بلکہ آسانی، سکون اور مسئلے کا حل بیچتے ہیں۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ آپ چیز نہیں بیچتے، بلکہ لوگوں کی زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ لوگ پروڈکٹ نہیں خریدتے، بلکہ اپنی مسئلے کا حل اور آسانی خریدتے ہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں نہیں، بلکہ کس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔

o      یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔

o      میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔

پروفیشنل دنیا میں کامیابی صرف اسکل (Skill) سے نہیں، بلکہ ”رزلٹ دینے کی صلاحیت اور اعتماد کے ساتھ کمیٹمنٹ “سے آتی ہے۔

اصل سبق (Professional Insight) :

کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو صرف یہ کہیں:
میں یہ کام کرنا جانتا ہوں

بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ کہیں:
میں آپ کو یہ نتیجہ دے سکتا ہوں

اس میں چھپا بڑا اصول:

·         اسکل = آپ کیا کر سکتے ہو

·         رزلٹ = آپ کس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو

👉 دنیا اسکل نہیں، رزلٹ خریدتی ہے

پروفیشنل لائف کے لیے مین ٹیک اوے:

1.    Value-based بات کرو، Skill-based نہیں

o        ”میں Facebook ads چلاتا ہوں کمزور بات ہے

o        ”میں آپ کے leads 5x کر سکتا ہوںمضبوط بات ہے

2.    Confidence + Clarity = Trust
جو شخص واضح نمبر اور outcome بتاتا ہے، اس پر لوگ زیادہ اعتماد کرتے ہیں

3.    Problem solver بنو، Worker نہیں
کامیاب لوگ task نہیں کرتے، result solve کرتے ہیں

4.    Measurable impact دو
جتنا measurable ہوگا (10 50 leads)، اتنی credibility بڑھے گی


ایک لائن میں خلاصہ:

اسکل تمہیں کام دلائے گی، مگر Result تمہیں کامیاب بنائے گا۔

یہی اصل پروفیشنل مائنڈسیٹ ہے۔


صرف مہارت رکھنا کامیابی کی ضمانت نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی مہارت سے ادارے کے لیے کتنی قدر (Value) پیدا کرتے ہیں۔


مزید چند زبردست متبادل:

1.    اسکل ہونا اہم ہے، مگر اس سے ادارے کو فائدہ پہنچانا اصل کامیابی ہے۔

2.    آپ کی قابلیت نہیں، بلکہ آپ کی ویلیو ایڈ ہی آپ کی اصل پہچان بنتی ہے۔

3.    کام جاننا کافی نہیں، کام کا اثر دکھانا ضروری ہے۔

4.    پیشہ ور وہ نہیں جو کام کرے، بلکہ وہ ہے جو نتیجہ دے۔


ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مجھ سے انباکس میں یہی سوال پوچھتا ہے:
"
حالات بگڑتے جارہے ہیں، مہنگائی بے قابو ہورہی ہے، میں کون سا کام کروں تاکہ اپنی آمدنی بڑھا سکوں؟"
اور پچھلے کچھ ہفتوں میں، جب سے مڈل ایسٹ میں جنگ کی وجہ سے حالات غیر یقینی ہوئے ہیں، یہ سوال اور بھی زیادہ آنے لگا ہے۔
میرا جواب سن کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں۔
دیکھیے، میں یہ نہیں بتاتا کہ کون سا کام کریں یا سیکھیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔
صحیح سوال یہ نہیں ہے کہ "کون سا کام سیکھا اور کیا جائے؟"
صحیح سوال یہ ہے کہ "لوگ پہلے سے کہاں پیسے خرچ کر رہے ہیں اور انہیں اس کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے؟"
جب میں یہ بات سمجھاتا ہوں تو پہلے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں، پھر دماغ کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، یا کوئی اور اسکلز سیکھ لیں گے تو کلائنٹ خود آ جائیں گے اور ہم چند مہینوں میں اچھا کمانا شروع کردیں گے۔
لوگ مہینوں محنت کرتے ہیں، کوئی اسکل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیکھ بھی لیتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی سروسز بیچ نہیں پاتے۔
کیونکہ انہوں نے غلطی یہ کی ہے کہ انہوں نے ایک اسکل سیکھ لی ہے، لیکن مسئلے کو حل کرنا نہیں سیکھا۔
مجھے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب 23 برس ہوگئے ہیں اور میں نے جتنے کامیاب لوگ دیکھے ہیں، جن کے ساتھ کام کیا ہے، وہ عام طور پہ سب سے زیادہ اسکلڈ لوگ نہیں ہوتے ہیں۔
بلکہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں:
"
میر کام کے نتیجے میں آپ کی لیڈز میں اضافہ ہوجائے گا، یعنی اگر اس وقت روزانہ 10 انکوائریز آرہی ہیں تو میرے کام کے نتیجے میں آئندہ دو سے تین ماہ 50 انکوائریز آنی شروع ہوجائیں گی۔"
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی کسٹمر کمپلینز میں 40 فیصد کمی" واقع ہوگی۔ "
یا
میرے کام کے ذریعے آپ کی اکاؤنٹنگ اور بک کیپنگ آسان" ہوجائے گی اور آپ کے روزانہ دو سے تین گھنٹے بچیں گے۔"
یاد رکھیے۔۔۔ لوگ آپ کو کام کے لیے پیسے نہیں دیتے ہیں۔ لوگ آپ کو نتائج کے لیے پیسے دیتے ہیں۔
آپ میں سے اکثر لوگ نیٹ فلکس کو جا تے ہیں۔ نیٹ فلکس آپ کو موویز نہیں بیچتا، وہ بوریت کا حل بیچتا ہے۔ ریلیکس ہونا بیچتا ہے، آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں، وہ انجوائمینٹ بیچتا ہے۔
سمجھے؟
کریم اور اوبر سواری بیچتے ہیں؟ جی نہیں۔ وہ آپ کو سواری کے لیے پریشان ہونے سے بچنا اور وقت بچانا بیچتے ہیں۔
فوڈ پانڈا کی مثال لے لیجیے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فوڈ پانڈا کھانے کی سروس بیچ رہا ہے! جی نہیں۔ فوڈ پانڈا کھانا نہیں بیچتا، وہ آسانی بیچتا ہے۔ بس گھر بیٹھے سینکڑوں آپشنز میں سے آپشن سلیکٹ کیجیے اور اپنا پسندیدہ کھانا منگوا لیجیے۔ گرمی میں کچن میں کام کرنے سے بچنے کی آسانی، باہر جاکر ٹریفک میں پھنسنے، پھر ریسٹورنٹ میں انتظار کی کوفت سے بچنے کی آسانی، پیمنٹ کرنے کی آسانی۔۔۔
لیکن آپ کو نیٹ فلکس، کریم، اوبر، فوڈ پانڈا بننا ضروری نہیں ہے۔
میں دو مثالوں سے بات سمجھاتا ہوں۔
کراچی میں ایک نوجوان میری ورکشاپ میں آیا، جس کے ساتھ میں نے کام کیا، اس نے دیکھا کہ ریستوران والے برے Google reviews کی وجہ سے کسٹمرز مس کر رہے ہیں۔
میں نے اسے وژن بنانے میں مدد کی اور کہا کہ تم گوگل کی سائنس اچھی سمجھتے ہو تو تم یہ مسئلہ حل کرنے کی بات کرو، جس سے ریسٹورنٹس کے ریویوز بہتر ہوجائیں اور ان کی سیلز میں اضافہ ہو۔
اس نے ایک درمیانے درجے کے ریسٹورنٹ کی آن لائن ساکھ سنبھالنا شروع کر دی۔ اس لڑکے کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں ہے، ایک اسکل ہے جو شاید بہت سے اور لوگوں کے پاس ہوگی، بس اس نے اپنے وژن کو اسکل سے ہٹا کر مسئلے کے حل پر لگا دیا۔ آج وہ 30 سے زیادہ ریسٹورنٹس کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے ساتھ اپنی اہلیہ کو بھی کام سکھا کر دونوں ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں۔
دبئی میں ایک سنگل مدر سے ملاقات ہوئی۔ ان کی گوگل اور میٹا پر اشتہارات کے حوالے سے اچھی اسکل تھی لیکن کام نہیں کر پارہی تھیں۔
جب ان کے ساتھ میں نے کام کیا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا اشتہارات پر اکثر پیسے ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہوتا۔
ہم نے اپنے وژننگ پروسیس میں یہ کہا کہ آپ گارنٹی کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کریں، یعنی پیسے تبھی دیں جب آپ کو نتیجہ ملے۔ دو مہینوں میں ان کے پاس کام کی لائن لگ گئی۔ الحمد للہ، آج پانچ لوگوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کئی کلائنٹس مینیج کررہی ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی کچھ کلائنٹس کم ضرور ہوئے ہیں لیکن اوور آل صورتحال ٹھیک ہے کیونکہ وہ صرف دبئی یا خلیج تک محدود نہیں ہیں۔ پچھلے دو سال میں ان کو اسکیل کروا کر دیگر خطوں میں بھی کام شروع کروایا جس کا آج فائدہ ہورہا ہے۔
ان لوگوں کے پاس اسکل تھی کیونکہ ہر کوئی اسکل کی بات کررہا ہے لیکن نے میرا مدعا یہ تھا اور ہے کہ اسکل سیکھ لینے سے آپ کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے کے حل سے بات شروع کریں، جو لوگ پہلے سے حل کروانے کے لیے پیسے کسی اور کو دے دے رہے تھے لیکن ان کو نتائج نہیں مل رہے۔۔۔ تو آپ نتائج کی ذمہ داری لیں۔
لیکن یہاں وہ بات کہنا ضروری ہے جو میں نے ان کو سمجھائی اور ہر اس شخص سے کہتا ہوں جو میرے پاس آتا ہے، اور یہ بات اکثر لوگ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے:
کمانے کا طریقہ پوچھنے سے پہلے یہ جواب دینا ضروری ہے کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
کمانا ایک ذریعہ ہے۔
اگر آپ کے پاس اپنے بڑے وژن اور پرپز کی کلیرٹی نہیں ہے تو آپ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، کچھ بھی مکمل نہیں کر پائیں گے، اور دو تین مہینوں میں مایوس ہو کر چھوڑ دیں گے۔
یہ وہ پیٹرن ہے جو میں برسوں سے ہزاروں لوگوں میں دیکھ رہا ہوں۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذہین نہیں ہوتے۔
وہ سب سے زیادہ کلئیر سوچ والے ہوتے ہیں۔
میری رائے ہے کہ آپ یہ کریں:
پہلے اپنا وژن طے کریں۔ آپ کیا بنا رہے ہیں اور کس کے لیے؟
دیکھیں کہ پیسہ کہاں ضائع ہو رہا ہے، نہ کہ صرف کون سا ہنر سیکھنا ہے۔
سروس یا پروڈکٹ نہیں، نتائج کی بات کریں۔
ثابت قدم رہیں — آپ کا پرپز اور وژن آپ کو مشکل وقت میں جمائے رکھے گا۔
لیکن یہ دونوں چیزیں اگر کلئیر نہیں ہیں تو جیسے ہی کوئی چیلنجز آئیں گے، آپ ہاتھ پاؤں چھوڑ دیں گے۔
آپ کی مالی ترقی میں رکاوٹ اسکل کی کمی نہیں ہے بلکہ کلیرٹی کی کمی ہے۔
آپ کے پاس کون سی ایسی اسکل ہے جسے آپ نے کبھی کسی اصل وژن اور مقصد سے نہیں جوڑا؟ اور آپ فرسٹریشن کا شکار ہورہے ہیں؟
یمین الدین احمد
26
مارچ 2026ء
کراچی، پاکستان۔

 

 

 

No comments:

Post a Comment

مائنڈ سیٹ

کیرول ڈویک کی کتاب "مائنڈ سیٹ" دراصل انسانی نفسیات کا ایک شاہکار ہے۔ جب ہم اس کتاب کے شاندار نفسیاتی اصولوں کو قرآنی شعور (فہمِ دی...